بدھ‬‮ ، 22 جولائی‬‮ 2026 

دھمکیوں پر پاکستان کا منہ توڑ جواب ملتے ہی امریکہ کی عقل ٹھکانے آگئی

datetime 25  اگست‬‮  2017 |

ا سلام آباد /واشنگٹن (این این آئی) پاکستان اور امریکہ نے کلیدی امور میں اپنے اختلافات دور کرنے اور تعلقات بچانے کیلئے بیک چینل رابطے قائم کر لیے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق رواں ماہ کے شروع میں سابق سفارتکاروں ٗفوجی حکام اور سیکورٹی ماہرین کے گروپ نے واشنگٹن میں اپنا تیسرا آف دی ریکارڈ اجلاس کیا جس میں افغان امن کیلئے پاکستان کی حمایت، امریکہ

کے بھارت سے بڑھتے تعلقات، نئی دہلی کا افغانستان میں کردار اور سی پیک کی شروعات کے بعد اسلام آباد کا بیجنگ کی جانب بڑھتا ہوا جھکائو زیر غور آئے۔اس بات چیت میں شرکت کے بعد امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ طرفین نے درپیش ایشوز پر کھل کر بات کی۔مستقبل میں باہمی تعلقات کیلئے اس کی بنیاد پر حکومت کو عمل درآمد کیلئے سفارشات تیار کی جائیں گی۔ اس غیر رسمی رابطے کو ٹریک ٹو ڈپلو میسی بھی کہا جاسکتا ہے ۔امریکہ میں پاکستان کے موجودہ سفیر اعزاز چوہدری نے ان رابطوں کا خیر مقدم کیا ہے ٗانہوں نے کہا کہ ٹریک ٹو سرکاری سطح پر رابطوں کا متبادل تو نہیں لیکن حکام اس سے استفادہ ضرور کر سکتے ہیں۔ان بیک چینل رابطوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والوں میں لیفٹیننٹ جنرل ( ر) اشفاق ندیم، افغانستان میں سابق سفیر محمد صادق، امریکہ کی طرف سے سابق معاون وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر، سابق سفیر رابن رافیل اور سیکورٹی ماہرین ڈاکٹر ٹریشیا بیکن اور ڈیوڈ اسمتھ شامل تھے۔ولسن سنٹر میں ایشیاء پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین نے کہا کہ آف دی ریکارڈ ماحول میں سابق اعلیٰ حکام کے درمیان باہمی تعاون کا راستہ نکالنے کیلئے تبادلہ خیال ازخود انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں باہمی تعاون کے ممکنہ امور کو سامنے لایا گیا۔رچرڈ باؤچر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ

میں پاکستان کی جانب سے کوششوں کی تعریف اور افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کیلئے پاکستانی تجویز کی حمایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی علاقائی حدود خصوصاً قبائلی علاقوں میں ریاست کی عمل داری کو قائم کیا تاہم دیرپا امن کیلئے سرحدوں پر مؤثر کنٹرول کی ضرورت رہتی ہے ۔اس بات چیت کا اہتمام دو تھنک ٹینکس ولسن سنٹر واشنگٹن اور اسلام آباد میں

قائم ریجنل پیس انسٹی ٹیوٹ نے مل کر کیا۔اس موقع پر امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں ہے جو پورے خطے کیلئے خوش آئند بات ہے لیکن 16 سالہ افغان تنازع سے یہ واضح ہوگیا کہ دیرپا امن صرف جامع سیاسی عمل کے ذریعہ ہی ممکن ہے اس حوالے سے پاکستان، امریکہ اور افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے ۔ ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…