اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

دھمکیوں پر پاکستان کا منہ توڑ جواب ملتے ہی امریکہ کی عقل ٹھکانے آگئی

datetime 25  اگست‬‮  2017 |

ا سلام آباد /واشنگٹن (این این آئی) پاکستان اور امریکہ نے کلیدی امور میں اپنے اختلافات دور کرنے اور تعلقات بچانے کیلئے بیک چینل رابطے قائم کر لیے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق رواں ماہ کے شروع میں سابق سفارتکاروں ٗفوجی حکام اور سیکورٹی ماہرین کے گروپ نے واشنگٹن میں اپنا تیسرا آف دی ریکارڈ اجلاس کیا جس میں افغان امن کیلئے پاکستان کی حمایت، امریکہ

کے بھارت سے بڑھتے تعلقات، نئی دہلی کا افغانستان میں کردار اور سی پیک کی شروعات کے بعد اسلام آباد کا بیجنگ کی جانب بڑھتا ہوا جھکائو زیر غور آئے۔اس بات چیت میں شرکت کے بعد امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ طرفین نے درپیش ایشوز پر کھل کر بات کی۔مستقبل میں باہمی تعلقات کیلئے اس کی بنیاد پر حکومت کو عمل درآمد کیلئے سفارشات تیار کی جائیں گی۔ اس غیر رسمی رابطے کو ٹریک ٹو ڈپلو میسی بھی کہا جاسکتا ہے ۔امریکہ میں پاکستان کے موجودہ سفیر اعزاز چوہدری نے ان رابطوں کا خیر مقدم کیا ہے ٗانہوں نے کہا کہ ٹریک ٹو سرکاری سطح پر رابطوں کا متبادل تو نہیں لیکن حکام اس سے استفادہ ضرور کر سکتے ہیں۔ان بیک چینل رابطوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والوں میں لیفٹیننٹ جنرل ( ر) اشفاق ندیم، افغانستان میں سابق سفیر محمد صادق، امریکہ کی طرف سے سابق معاون وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر، سابق سفیر رابن رافیل اور سیکورٹی ماہرین ڈاکٹر ٹریشیا بیکن اور ڈیوڈ اسمتھ شامل تھے۔ولسن سنٹر میں ایشیاء پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین نے کہا کہ آف دی ریکارڈ ماحول میں سابق اعلیٰ حکام کے درمیان باہمی تعاون کا راستہ نکالنے کیلئے تبادلہ خیال ازخود انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں باہمی تعاون کے ممکنہ امور کو سامنے لایا گیا۔رچرڈ باؤچر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ

میں پاکستان کی جانب سے کوششوں کی تعریف اور افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کیلئے پاکستانی تجویز کی حمایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی علاقائی حدود خصوصاً قبائلی علاقوں میں ریاست کی عمل داری کو قائم کیا تاہم دیرپا امن کیلئے سرحدوں پر مؤثر کنٹرول کی ضرورت رہتی ہے ۔اس بات چیت کا اہتمام دو تھنک ٹینکس ولسن سنٹر واشنگٹن اور اسلام آباد میں

قائم ریجنل پیس انسٹی ٹیوٹ نے مل کر کیا۔اس موقع پر امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں ہے جو پورے خطے کیلئے خوش آئند بات ہے لیکن 16 سالہ افغان تنازع سے یہ واضح ہوگیا کہ دیرپا امن صرف جامع سیاسی عمل کے ذریعہ ہی ممکن ہے اس حوالے سے پاکستان، امریکہ اور افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے ۔ ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…