جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پرانی عمارتوں میں لوگوں کو بھوت کیوں نظر آتے ہیں؟

datetime 13  اکتوبر‬‮  2015 |

نیویارک (نیوز ڈیسک) جنوں بھتوں کی کہانیاں صدیوں سے انسان کو خوفزدہ کرتی رہیں ہیں لیکن اب بالآخر سائنس نے آسیب زدہ ڈراﺅنی جگہوں کا راز فاش کردیا ہے۔
امریکا کہ کلارکسن یونیورسٹی کے پروفیسر شین راجرز نے حال ہی میں ایک تحقیق کی ہے جس میں معلوم ہوا ہے کہ پرانی اور ڈراﺅنی عمارتوں میں لوگوں کو دل گھبرانے، دم گھٹنے، آوازیں سنائی دینے اور سائے نظر آنے کے واقعات واقعی سچ ہیں لیکن ان کی وجہ بھوت پریت نہیں بلکہ ان جگہوں کے ماحول کی آلودگی اور خصوصاً ایک خاص قسم کی پھپھوندی ہے۔ پروفیسر راجرز کہتے ہیں کہ عرصے سے بند پڑی عمارتوں یا گھنے درختوں سے بھری نمی سے بھرپور جگہوں پر زہریلی پھپھوندی کی افزائش ہوتی ہے جس کے اثرات ہوا میں شامل ہوکر انسان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔

 

9999

ان جگہوں کا آلودہ اور گھٹن زدہ ماحول نہ صرف جسمانی کارکردگی کو متاثر کرتاہے بلکہ دل کی دھڑکن تیز ہونے، سر چکرانے، موڈ میں اچانک تبدیلی، بلاوجہ غصہ آنے اور سمعی وبصری مسائل کا سبب بھی بنتا ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ گویا کوئی غیر مرئی مخلوق ہم پر اثر انداز ہورہی ہے۔ ایسے ماحول میں بعض لوگ عجیب و غریب مخلوقات نظر آنے یا ڈراﺅنی آوازیں سننے کے بارے میں بھی بتاتے ہیں جو درحقیقت عصبی نظام پر ماحول کے اثرات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

پروفیسر راجرز کا کہنا ہے کہ وہ امریکا میں درجنوں ایسی جگہوں پر تجربات کرچکے ہیں کہ جن کے بارے میں کئی دہائیوں سے ڈراﺅنی کہانیاں مشہور تھیں اور ان تمام جگہوں پر ماحولیاتی عوامل ہی سرگرم عمل نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں خود بھی ان جگہوں پر خوف، گھٹن اور آوازیں سنائی دینے جیسی کیفیات محسوس ہوئی ہیں لیکن وہ جانتے ہیں کہ اس کا سبب کوئی نظر نہ آنے والی مخلوق نہیں بلکہ ان جگہوں کا مخصوص ماحول ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر آپ کو بھی کوئی ایسا مسئلہ درپیش ہے تو گھبرانے کی بجائے متاثرہ جگہ کی مکمل اور بہترین صفائی مسئلے کو ہمیشہ کے لئے حل کرسکتی ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…