جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

نوازشریف کی نااہلی کا بدلہ ن لیگ نے پاناما کافیصلہ سنانے والے سینئر ترین جج کیخلاف انتہائی قدم اُٹھالیا،تباہ کن صورتحال،پورے ملک میں افراتفری مچ گئی‎

datetime 19  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی )اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور پاناما بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کیخلاف 5 صفحات پر مشتمل ریفرنس دائر کردیا۔ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ سپیکر کو وزیراعظم کا وفادار قرار دینا حقائق کے منافی ہے، معزز جج کے ریمارکس سے سپیکر آفس کی توہین ہوئی، ان ریمارکس نے کئی منفی سوالات اٹھا دئیے۔ معزز جج کے ریمارکس سے ذاتی عناد اور جانبداری کا تاثر ملتا ہے،

ریمارکس سے پارلیمنٹ کی خود مختاری پر ضرب پڑنے کا تاثر ملتا ہے،سپیکر قومی اسمبلی کو ایوان نے منتخب کیا یہ فیصلہ ایوان کے 342 اراکین اور اسپیکر کے استحقاق کو مجروح کرتا ہے،سپیکر کا دفتر کوئی تحقیقاتی ادارہ نہیں،عدالت نے دس ماہ تک درخواستوں پر سماعت کی۔ سپیکر کی جانب سے ریفرنس آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت دائر کیا جائے گا، سپیکر کے ذمہ داری ادا نہ کرنے پر درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا گیا تھا۔قانونی ماہرین کے مطابق ریفرنس دائر کیے جانے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل ابتدائی سماعت کرکے ریفرنس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے گی۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں ہائی کورٹس کے دو چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور پاناما بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کیخلاف 5 صفحات پر مشتمل ریفرنس دائر کردیا ، ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ پانامہ فیصلے میں عدالتی بینچ میں موجود جج میں سے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے اور اسپیکر قومی اسمبلی کو نوازشریف کا وفادار قرار دیا جو حقائق کے منافی ہے جب کہ اسپیکر کے خلاف ریمارکس سے معزز جج کے ذاتی عناد یا جانبداری جھلکتی ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلے میں لکھا کہ اسپیکر معاملے کی تحقیقات میں ناکام رہے، فیصلے میں لکھا گیا کہ ‎اسپیکر نے معاملہ الیکشن کمیشن کو نہیں بھیجا یہ ناکامی ہے۔

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو ایوان نے منتخب کیا یہ فیصلہ ایوان کے 342 اراکین اور اسپیکر کے استحقاق کو مجروح کرتا ہے۔دائر ریفرنس میں اسپیکر اسمبلی نے موقف اختیار کیا کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاناما کیس کے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسپیکر نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں اور اس بنیاد پر پاناما کیس سے متعلق درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا۔ ایاز صادق نے ریفرنس میں کہا کہ اسپیکر کو وزیراعظم کا وفادار اور جانبدار قرار دینا حقائق کے منافی ہے،

اسپیکر ایوان کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے اور اسپیکر کا دفتر کوئی تحقیقاتی ادارہ نہیں ہوتا، جب کہ سپریم کورٹ نے دس ماہ تک پاناما سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا اور اسپیکر کا اس حوالے سے کوئی کردار نہیں تھا۔ریفرنس میں کہا گیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف ریمارکس سے ذاتی عناد اور جانبداری کا تاثر ملتا ہے، معزز جج کے ان ریمارکس سے کئی منفی سوالات پیدا ہوگئے ہیں، عہدے پر برقرار رہنے سے معزز جج صاحب کو مزید متنازع فیصلوں کا موقع ملے گا۔

دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ریفرنس کو عدلیہ کے خلاف سازش قرار دے دیا۔ سیکرٹری سپریم کورٹ بار آفتاب باجوہ نے کہا کہ عدلیہ کے خلاف کسی قسم کی محاذ آرائی قبول نہیں، سپریم کورٹ کے جج معزز ہیں اور سپریم کورٹ بار عدلیہ کے ساتھ ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق ریفرنس دائر کیے جانے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل ابتدائی سماعت کرکے ریفرنس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے گی۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں ہائی کورٹس کے دو چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…