بدھ‬‮ ، 15 اپریل‬‮ 2026 

شکر خوروں: کیلئے5ہزار کیلوریز والا میٹھا مفت دستیاب مگر شرط یہ ۔۔۔۔۔

datetime 3  اپریل‬‮  2015 |

پورٹس ماو¿تھ (نیوز ڈیسک) میٹھا کھانے کے شوقین حضرات عام طور پر اس جانب کم ہی توجہ دیتے ہیں کہ ان کے منتخب کردہ میٹھے میں کس قدر کیلوریز ہیں تاہم پورٹس ماو¿تھ کا ایک ڈیزرٹ ہاو¿س اپنے صارفین کو ایک ایسا میٹھا پیش کررہا ہے جسے کھاتے ہوئے نہ صرف صرف ایک کیلوری کا حساب رکھنا پڑے گا بلکہ اسے کھاتے ہوئے گھڑی پر بھی نگاہ رکھنی ہے۔ دراصل اس میٹھے میں کیلوریز کی مقدار ایک صحت مند فرد کیلئے روزانہ کی ضروریات کیلئے ضروری کیلوریز کی مقدار سے تین گنا زیادہ کیلوریز ہیں، اس کے علاوہ یہ ان افراد کیلئے بالکل مفت ہے جو کہ اسے 45منٹ کے اندر اندر کھا لیں گے۔ دی وکڈ ویفل میں دستیاب اس میٹھے میں انتہائی گاڑھی قسم کی آئسکریم کے 12سکوپس، چار چاکلیٹس کے فلیکس اور چار عدد7انچ چوڑے ویفلز شامل ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس کے اوپر ٹاپنگ کیلئے اچھی طرح پھینٹی گئی کریم بھی ڈالی جاتی ہے۔چار، 7انچ والے ویفلز کی تیار کیلئے 4انڈے، 3کپ دودھ،1کپ مکھن اور 3کپ معدہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ا
س قدر بھاری بھرکم میٹھے کو ہضم کرنے کیلئے ہاتھی جیسا ہاضمہ بھی چاہئے اور یہی وجہ ہے کہ اسے خال خال ہی کوئی فرد مکمل طور پر ختم کرپاتا ہے جبکہ اسے مفت میں کھانے کیلئے مقررہ45منٹ کی شرط کو گزشتہ چھ ماہ کے دوران صرف دو لوگ ہی پورا کرسکے ہیں۔ ان افراد کو فاتح کیلئے مخصوص ٹی شرٹ اور ایک وقت کا کھانا بھی مفت کھلایا گیا۔ اس دوران اس چیلنج کو قبول کرنے والوں کی تعداد درجنوں میں رہی تاہم کسی بھی شخص کا معدہ اس قدر بھاری میٹھے کو قبول نہ کرسکا۔ اس بارے میں ریستوران کے مالک ہیری ہیرسن کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں اس ویفل کو کھانے والے افراد مشکل سے آدھی پلیٹ ہی کھا پاتے ہیں جس کے بعد ان کی ہمت جواب دے جاتی ہے۔ اس کی وجہ اس میں میٹھے کی بھاری مقدار کے علاوہ آئس کریم سکوپس ہیں جس کی وجہ سے کھانے والوں کو اس قدر شدیدسردی لگنا شروع ہوجاتی ہے کہ ان کا معدہ بھی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے یا پھر سست پڑ جاتا ہے۔
اس چیلنج کو قبول کرنے والوں میں محض پیٹو پہلوان ہی شامل نہیں بلکہ نازک اندام حسینائیں بھی شامل ہیں تاہم کامیاب ہونے والوں میں سے ایک رینڈی سیٹل کی شہرت ہی ان کے پیٹو پن کی وجہ سے ہے۔ رینڈی بطور خاص امریکہ سے پورٹس ماو¿تھ اسی چیلنج کو قبول کرنے کی خاطر آئے تھے اور انہوں نے حیرت انگیز طور پر13منٹ11سیکنڈز میں یہ چیلنج جیت لیا تھا جبکہ دوسرے فاتح سائمن نے یہ چیلنج23منٹ میں اپنے نام کیا تھا۔ ویفل وکڈ چیلنج کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ تاحال برگر اور سٹیکس کے حوالے سے تو مختلف ریستورانوں میں مقابلے منعقد کرائے جاتے رہے ہیں تاہم میٹھا کھانے کا کوئی مقابلہ دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کی سب سے بڑی کام یابی


وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…