جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

سابق صدر زرداری نے نواز شریف کو آخری جھٹکا دیدیا، (ن) لیگ سر پکڑ کر بیٹھ گئی!!

datetime 16  اگست‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے سربراہ و سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ نواز شریف سے رابطہ ہے اور نہ ہی رکھنا چاہتا ہوں ،گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا حصہ نہیں بنیں گے ،اس وقت جمہوریت نہیں بلکہ نواز شریف کی سیاست کو خطرہ ہے،

اقتدار میں رہ کر 62، 63، گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ اور نیا عمرانی معاہدہ یاد کیوں نہیں تھا؟۔ ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت بلاول ہائوس لاہور میں ایک اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں پارٹی کی سینئر قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنے کے ساتھ پنجاب میں پارٹی کو مزید فعال بنانے کے حوالے سے حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا ۔ اس موقع پر آصف علی زرداری نے کہا کہ بلاول بھٹو میدان میں اتر چکا ہے جس سے پارٹی کی عوام میں مقبولیت میں اضافہ ہوگا اور پیپلز پارٹی کا چنیوٹ کا کامیاب جلسہ سیاسی مخالفین کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور نہ ہی ان سے رابطہ رکھنا چاہتے ہیں۔ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا بھی حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اقتدار میں نہ ہوں تو ان کی ترجیحات اور ہوتی ہیں اور اقتدار میں آکر ترجیحات بدل جاتی ہیں۔جب نواز شریف سے رابطہ ہی نہیں رکھنا چاہتے تو ڈائیلاگ کیسا؟۔ آصف زرداری نے کہا کہ اس وقت جمہوریت کو خطرہ نہیں بلکہ نواز شریف کی سیاست کو خطرہ ہے۔ نواز شریف کو اقتدار میں 62، 63، گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ اور نیا عمرانی معاہدہ یاد کیوں نہیں تھا؟۔آج مشکل کا شکار ہیں تو انہیں یہ سب باتیں یاد آ رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…