بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

گیارہ برس کی ہر پانچویں لڑکی عمر سے پہلے ہی ڈائٹنگ شروع کر دیتی ہیں

datetime 3  اپریل‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک)دنیا بھر میں ڈائٹنگ کا رجحان اس حد تک پھیل چکا ہے کہ اب کمسن بچیاں بلوغت کی عمر میں داخلے سے بھی بہت پہلے ہی ڈائٹنگ شروع کرچکی ہوتی ہیں۔ غذا پر کنٹرول کی عادت میں مبتلا بچیوں کی عمریں گیارہ برس سے بھی کم بتائی جارہی ہیں۔ برطانیہ کے گورنمٹ ایکویلیٹیز آفس کی جانب سے منعقد کی گئی اس تحقیق کے مطابق سکول جانے والی87 فیصد بچیوں کا خیال ہے کہ خواتین کو ان کی مہارت سے زیادہ رنگ روپ اور ان کے جسمانی خدوخال کی بنیاد پر نوکری دی جاتی ہے، اور اسی لئے ان میں وزن کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے رجحانات خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں تاکہ اپنے مستقبل کو وہ محفوظ کرسکیں۔ ان بچیوں میں ہر چھٹی بچی کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ سکول نہیں جانا چاہتی ہیں یا سکول کو کچھ عرصے کیلئے چھوڑ چکی ہے کیونکہ انہیں ایسا لگتا کہ ہے کہ ان کی جاسمت بھدی اور دوسروں کا سامنا کرنے کے لائق نہیں ہے۔ یہ رجحان دراصل ساتھیوں کی جانب سے دباو¿ کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے لڑکیوں میں نہ صرف دبلی پتلی دکھائی دینے کا خبط بڑھ رہا ہے بلکہ وہ لڑکیاں جو موٹاپے کا شکار ہیں
ان میں اعتماد کی شدید کمی بھی دیکھنے کو ملتی ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ ان کی بھدی جسامت کی وجہ سے انہیں مزاق کا نشانہ بننا پڑے گا۔ مزاق کا نشانہ بننے کا خوف انہیں مزید مسائل کا شکار بنا دیتا ہے کیونکہ وہ ڈپریشن کا شکار ہونے کی وجہ سے موٹاپے سے نجات کیلئے خطرناک طریقے اپناتی ہیں، مثال کے طور پر کریش ڈائٹنگ، کھانا کھا کے قے کردینا، سگریٹ نوشی،کثرت شراب نوشی وغیرہ کے ذریعے بھوک ختم کرنے کی کوشش کرنا وغیرہ۔
یہ موٹاپا ان کے اندر ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا اعتماد بھی ختم کردیتا ہے جو کہ درحقیقت ان کا وزن کم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ تحقیق میں شامل23فیصد لڑکیاں جن میں سات برس تک کی کم سن بچیاں بھی شامل تھیں،اس خیال کی قائل تھیں کہ وہ اپنی بھدی جسامت کی وجہ سے کھیلوں سے متعلقہ کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیتی ہیں کیونکہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کی جسامت اس قابل نہیں کہ وہ سپورٹس سوٹ میں اس کی نمائش کرسکیں جبکہ پچاس فیصد کے نزدیک وہ سپورٹس میں اس لئے حصہ نہیں لیتیں کہ پسینے میں ڈوبی ہوئی لڑکیاں اچھی نہیں لگتی ہیں۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کی خطرناک شرح کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں ایک چوتھائی خواتین موٹاپے کا شکار ہیں۔ اس صورتحال پر قابو کیلئے لڑکیوں میں کھیلوں میں حصہ لینے کے رجحان کو فروغ دینے کیلئے ایک لاکھ پاو¿نڈز مالیت کی ایک ٹی وی کمپین بھی شروع کی گئی ہے جس کا مقصد لڑکیوں اور خواتین کی سپورٹس میں حوصلہ افزائی کرناہے۔اس مہم کو پسند کرنے کی شرح میں بے حد تیزی دیکھی گئی ہے تاہم خواتین کا یہ کہنا تھا کہ وہ وزن کم رکھنے کیلئے مجبور ہیں کیونکہ میڈیا جب کسی بھی خاتون کو پیش کرتا ہے تو وہ ان کے کارناموں سے زیادہ ان کے ظاہری خدوخال پرتوجہ دیتا ہے۔ ایسے میں وہ مجبور ہیں کہ اپنے وزن کو ہرممکن طریقے سے قابو میں رکھیں ورنہ ڈپریشن کا شکار ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…