ہفتہ‬‮ ، 14 فروری‬‮ 2026 

داڑھی والی خاتون علاج کےلئے بر طانوی حکومت کیخلاف مقدمہ جیت گئی

datetime 3  اپریل‬‮  2015 |

لندن (نیوز ڈیسک) برطانوی خاتون چہرے پر موجود داڑھی کے لیزر ٹریٹمنٹ کیلئے حکومت کیخلاف دائر کیا گیا مقدمہ جیت گئی ہیں۔32سالہ شیرل ہوو نے 6برس سے برطانوی ادارہ صحت نیشنل ہیلتھ سروس کیخلاف مقدمہ دائر کر رکھا تھا جس میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ عدالت ادارے کو پابند بنائے کہ وہ اس کے علاج کا خرچہ اٹھائیں کیونکہ اس مرض کا واحد علاج لیزر ہے جسے برطانوی ادارہ صحت اپنے مریضوں کو مفت میں نہیں دیتا۔خاتون12 برس کی عمر سے پولی سسٹک اووریز سنڈروم کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کے چہرے، سینے پیٹ اور ٹانگوں پر بالوں کی بڑھوتری کا عمل بے تحاشہ تیز ہوگیا ہے۔ اب شیرل کی یہ حالت ہے کہ انہیں اپنی شکل کو دوسروں کے سامنے پیش کئے جانے کے قابل رکھنے کیلئے دن میں کم از کم بھی تین بار بالوں کی شیو کیلئے ریزر استعمال کرنا پڑتا ہے۔ مجموعی طور پر ان کاسالانہ دو ہزار پونڈ کا خرچہ محض ریزرز کی خریداری پر آجاتا ہے۔ شیرل کے مرض کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اسے برطانیہ کی چند مشہور ہستیوں کی حمایت بھی حاصل ہے جن میں کم مارش، ٹیڈ اور ایڈوینا کری شامل ہیں۔ اب جبکہ شیرل عدالتی جنگ جیت چکی ہیں تو امکان ہے کہ این ایچ ایس انہیں دس ہزار پونڈ کے قریب خرچہ دے گا۔ امکان یہی ہے کہ ان کے لیزر ٹریٹمنٹ پر تقریباً اسی قدر خرچہ آئے گا۔ شیرل نے اس سلسلے میں متعلقہ کلینک سے وقت بھی لے لیا ہے اور انہیں رواں برس ستمبر کا وقت دیا گیا ہے۔ شیرل کہتی ہیں کہ وہ اس وقت کا بیتابی سے انتظار کررہی ہیں جب وہ شیو کے جھنجھٹ سے نجات پالیں گی اور مکمل لڑکی دکھائی دیں گی۔ جس وقت مجھے معلوم ہوا کہ میں مقدمہ جیت گئی ہوں، اس وقت بے ساختہ میری آنکھوں آنسو آگئے کیونکہ میں نے اس مرض کی وجہ سے بے تحاشہ مزاق کو سہا ہے۔
واضح رہے کہ پولی سسٹک اووریز سنڈروم کا شکار خواتین میں ہارمونز کا نظام بگڑ جاتا ہے۔ یہ مرض چونکہ لاعلاج ہے اور محض دواو¿ں کی وجہ سے اس کی شدت کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے، اسی لئے اس مرض کا شکار خواتین کی زندگی کسی عذاب سے کم نہیں رہتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ گولیاں براہ راست اس مرض کے علاج کیلئے نہیں ہوتی ہیں بلکہ اس سے ہونے والے نقصانات کو قابو میں کرنے کیلئے دی جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر فرد کو اس سے ہونے والے نقصانات کی شدت بھی دیگر سے مختلف ہوتی ہے۔ اس مرض کا شکار خواتین میں موٹاپا بے تحاشہ بڑھ جاتا ہے۔ جسم پر بالوں کی بڑھوتری کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ چہرے پر دانے اور کیلیں نکلنا شروع ہوجاتی ہیں ، سب سے بڑھ کے بانجھ پن کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ چہرے پر بالوں کی بڑھوتری سے جلد نہ صرف بدنما ہوجاتی ہے
بلکہ انہیں کنٹرول کرنا بھی ناممکن ہوتا ہے۔ شیرل کے ساتھ بھی یہ تمام مسائل پیدا ہوئے اور ان کے اندر مرض کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں سکول میں گوریلا کہا جاتا جب تعلیم مکمل ہوئی تو انہیں محض اسی بنا پر نوکری ڈھونڈنے میں مسائل پیش آئے کہ وہ عورت ہونے کے باوجود بھی عورت کی طرح دکھائی نہ دیتی تھیں۔اسی وجہ سے شیرل کی کسی لڑکے سے دوستی بھی نہ ہوسکی۔17برس کی عمر میں جب شیرل ماں بنیں تو یہ بھی ایک ”ون نائٹ سٹینڈ“ کا نتیجہ تھا تاہم شیرل کو اس پر کوئی شرمندگی نہیں کیونکہ انہیں احساس تھا کہ ان کی بھدی شکل کی وجہ سے انہیں بوائے فرینڈ کا ساتھ نصیب ہونا نصیب نہیں۔ جب وہ ماں بنیں تو انہیں اپنے ماں بننے کا احساس بھی نہ ہوتا تھا کیونکہ جب وہ یہ دیکھنے کیلئے آئینے کے سامنے بیٹی کے ہمراہ کھڑی ہوتیں کہ وہ ماں بن کے کیسی دکھائی دیتی ہیں تو وہاں انہیں ایک داڑھی والا مرد بچی کو گود میں تھامے دکھائی دیتا تھا۔ اب جبکہ شیرل کی بیٹی14برس کی ہوچکی ہے تو شیرل وہ گزرا وقت تو واپس نہیں لاسکتی ہیں تاہم امید ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…