بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

قتل اور کرپشن میں سزا کے خوف سے نوازشریف اور شہبازشریف کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں ، وعدہ معاف گواہ بالکل تیار ہیں، چوہدری پرویز الہٰی کا حیران کن انکشاف

datetime 11  اگست‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی ) پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے نوازشریف کی جانب سے مینڈیٹ کی تکرار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ووٹروں نے انہیں یہ مینڈیٹ چوری کرنے یا ماڈل ٹاؤن میں 14 بے گناہوں کو قتل اور درجنوں کو معذور کر دینے کیلئے نہیں دیا تھا، سانحہ ماڈل ٹاؤن میں وعدہ معاف گواہ تیار ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کیس اور حدیبیہ سمیت کرپشن کے دیگر کیسز میں سزا کے خوف سے دنوں بھائیوں اور ان کے ساتھیوں کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔

وہ بروز جمعرات میڈیا سے گفتگو میں مختلف سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نوازشریف سے پوچھا جائے کہ کیا انہوں نے ووٹرز کو بتایا تھا کہ انہوں نے چوری کی ہے یا وہ اپنی جھوٹی انا کی تسکین کیلئے بے گناہوں کو قتل کرائیں گے، انہیں مینڈیٹ دینے کا مطلب یہ تھا کہ وہ پاکستان اور عوام کیلئے کام کریں گے یہ نہیں کہ چوری اور کرپشن کریں، فوج اور عدلیہ کے خلاف کام کریں گے، کل بھوشن کو پکڑا جائے تو اس کا کیس بھی آگے نہ چلائیں بلکہ اس کو کمزور کریں گے۔ چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ مینڈیٹ اور تیسری بار وزیراعظم بننے سے یہ نہیں ہوتا کہ ان کی چوری، کرپشن سپریم کورٹ میں پکڑی جائے تو بھی وہ ہر چیز سے بری الذمہ ہیں، پلاننگ سے عدلیہ کی توہین کی جا رہی ہے، نوازشریف پچیس سال سے اور 10 سال سے ان کے چھوٹے بھائی پنجاب میں مسلسل حکمران ہیں لیکن حالات سب کے سامنے ہیں، انہوں نے عوام کیلئے کیا کیا ہے، پنجاب کے غریبوں، مریضوں اور لاچاروں کی بددعائیں ان کو لگی ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں ہیں، انہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس اور دیگر کیسز میں بھی نوشتہ دیوار نظر آ رہا ہے اس لیے انہوں نے ڈپٹی کمشنروں اور ڈی پی اوز کو تبادلوں کی دھمکی دے کر راولپنڈی سے لاہور تک ریلی کا پروگرام بنایا لیکن ان کا یہ شو بھی ناکام ہو گیا، یہ تمام حربے آزما رہے ہیں

لیکن چوری کے بعد اب یہ کرپشن اور 302 میں بھی نہ صرف پکڑے جائیں گے بلکہ انہیں سزا بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں انہوں نے خون کی ہولی کھیلی تو علامہ طاہر القادری کے فون کے بعد میں فوراً موقع پر پہنچ گیا تھا، منہاج القرآن کے اندر خون ہی خون تھا، درود پاک کا ورد کرتی بچیوں پر بھی گولیاں چلائی گئیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ یہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو جتنا مرضی دبا لیں لیکن یہ ضرور منظر عام پر آئے گی، وکلا تنظیمیں اس کیس میں مدعی بننے جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تین بار وزیراعظم تو بنے لیکن انہیں اداروں سے لڑائی کی عادت ہے وہ اس سے کبھی باز نہیں آئیں گے۔ انہوں نے عدالتوں کو بھی کبھی سیریس نہیں لیا اب اللہ کی پکڑ میں ہیں، ہیلی کاپٹر کے ذریعے انہوں نے پمفلٹ تو پھینکے ہیں لیکن یہ بھی بتا دیں کہ اقامہ کے ذریعہ کس طرح منی لانڈرنگ کی گئی، لندن اور دیگر ملکوں میں سرمایہ بھیج کر یہودیوں اور ہندوؤں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی گئی جے آئی ٹی کے ذریعہ سپریم کورٹ میں ان کے کاروبار سامنے آئے ہیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے ساتھ ن لیگیوں کی بدسلوکی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ وہ اپنی پارٹی قیادت کے ایما پر کرتے ہیں اور ایسی حرکتیں کرنا نوازشریف کی پرانی ہابی ہے، یہ صاف گوئی برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے میڈیا کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…