اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا جی ٹی روڈ سے لاہور پہنچےکا پروگرام اپنے آخری مراحل میں ہے تاہم اس سے پہلے وزیر اعظم اور ان کے قافلے نے سابقہ روٹ کے مطابق موٹر وے سے اتر کر کل اسی راستے سے گزرنا تھا، جہاں گزشتہ رو ز
دھماکہ ہو ا ۔سکیورٹی اداروں کا کہناہے کہ عین وقت پر روٹ میں تبدیلی نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف اور ان کے قافلے کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔وزیراعلیٰ شہباز شریف نے بھی شیڈول پر نظر ثانی کا مشورہ دیدیا۔کیا نوازشریف پلان میں تبدیلی کریں گے؟؟ آج صورتحال واضح ہوگی۔دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کا جی ٹی روڈ پر متوقع سفر کے باعث سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر سے بہتر بنایا جا رہاہے۔سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے جی ٹی روڈ ک سے ملحقہ ہسپتالوں اورتھانوں سمیت متعدد سرکاری اداروں کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم کی سکیورٹی کے حوالے سے آئی جی پنجاب عارف نواز نے صوبے کے آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو سکیورٹی اور ٹریفک پلان کی تیاری کی ہدایت کردی۔ محکمہ صحت پنجاب نے جی ٹی روڈ سے ملحقہ تمام اسپتالوں کو ہائی الرٹ کردیا، ہر ضلع کو تین تین میڈیکل کیمپس کے انعقاد کا حکم بھی دیدیا۔آئی جی پنجاب عارف نواز ویڈیو لنک کانفرنس میں جرائم پیشہ عناصرکیخلاف آپریشنزکو تیز کرنے پر بھی زوردیاہے۔دوسری جانب محکمہ صحت پنجاب نے جی ٹی روڈ سے ملحقہ تمام سرکاری اسپتالوں کو الرٹ جاری کردیا ہے۔بدھ کے روز ان ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، سٹاف نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی گئیں ۔



















































