بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

’’نواز شریف چور۔۔شہباز شریف قاتل‘‘طاہر القادری پاکستان پہنچتے ہی شریف برادران پر چڑھ دوڑے۔۔کیا کچھ کہہ گئے؟

datetime 8  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)شہدائے ماڈل ٹائون کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، قصاص لیں گے، سپریم کورٹ نے چور پکڑ لیا اب قاتل رہ گیا ہے،پانامہ کا فیصلہ توقعات کے خلاف تھا جس سے خوشگوار حیرت ہوئی، طاہر القادری کی وطن واپسی پر میڈیا اور کارکنان سے گفتگو۔ تفسیلات کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے وطن واپسی پر میڈیا اور کارکنان سے

خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹائون کے شہدا کے خون کا قصاص لیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے چور کو پکڑ لیا ہے اب قاتل رہ گیا ہے۔ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا اس کی توقع نہیں تھی ، فیصلے سے لگتا ہے اب پاکستان کی تقدیر بدلنے والی ہے ، پانامہ فیصلے نے سانحہ ماڈل ٹائون کے شہدا کے لواحقین کو انصاف ملنے کی امید پیدا کر دی ہے۔ طاہر القادری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت پر نا اہل کیا ، نواز شریف کو بد دیانت ،جھوٹا قرار دے کر نا اہل کیا ،اگر کسی کے خلاف سپریم کورٹ ایسی بات کر تو وہ خود شرم دکھا تا ہے لیکن اب آپ جی ٹی روڈ پر احتجاج کرنا چاہ رہے ہیں ۔انہوں نے سوال اٹھا تے ہوئے کہا کہ ہم نے جی ٹی روڈ پر نواز شریف کے خلاف احتجاج کیا تھا ،اب وہ کس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ،اگر ان میں ہمت ہے تو نام بتائیں ورنہ ہم سمجھیں گے کہ یہ احتجاج سپریم کورٹ اور قومی سلامتی کے خلاف ہے ۔ینیڈا آنا جانا میری مجبوری نہیں کیونکہ میری اصل زمین پاکستان ہے جہاں میرے کارکنوں کا خون بہایا گیا اور ہم اس کا حساب لے کر رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اللہ کی بارگاہ میں ہمیشہ انصاف ملتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…