بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

لکی مروت جلسے میں لوگوں نے عمران خان کیساتھ کیا سلوک کیا کہ وہ تپ کر قابل اعتراض پیغامات بھیجنے لگ گئے؟عائشہ گلالئی کے والد بہت کچھ سامنے لے آئے

datetime 7  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )عائشہ عمران خان کی جانب سے قابل اعتراض پیغامات موصول ہونے پر بہت جذباتی ہوجاتی، قابل اعتراض پیغامات کا سلسلہ لکی مروت جلسے کے بعد شروع ہوا، جلسے میں جب تک عائشہ خطاب کررہی تھی تو لوگ موجود رہے مگر عمران خطاب کرنے آئے تو لوگوں نے جانا شروع کر دیا، گلالئی کو سمجھاتا تھا کہ عمران خان حاسد شخص ہے

یہ کرکٹ کے دور میں بھی اپنے ساتھیوں سے حسد کرتا تھا، عائشہ گلالئی کے والد شمس القیوم وزیر کی جیو نیوز کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘میں گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق جیو نیوز کے پروگرام’’نیا پاکستان ‘‘میں معروف صحافی و تجزیہ کار طلعت حسین کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی جانب سے ان کی بیٹی عائشہ گلا لئی کو قابل اعتراض پیغامات آنا شروع ہوئے تو وہ بہت زیادہ جذباتی(مشتعل)ہوجاتی تھی لیکن میں انہیں صبر اور برداشت کی تلقین کرتا تھا کیونکہ میں ایک استاد رہا ہوں اور ایک استاد کو ہمیشہ صبر اور برداشت سے کام لینا ہوتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے قابل اعتراض پیغامات کا سلسلہ لکی مروت جلسے کے بعد سے شروع ہوا، جلسے میں عائشہ گلا لئی جب تک خطاب کرتی رہی تب تک لوگ موجود رہے لیکن جیسے ہی عمران خان خطاب کرنے آئے تو لوگوں نے جانا شروع کر دیا۔ اس جلسے کے بعد قابل اعتراض پیغام آیا تو گلا لئی جذباتی(مشتعل )ہو گئی لیکن میں نے اسے سمجھایا کہ عمران خان حاسد شخص ہے یہ کرکٹ کے دور میں بھی ساتھیوں سے حسد کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالتوں میں جانے کا کہا جا رہا ہے ،ہمارے پاس حلال کی کمائی ہے ،حرام کے پیسے نہیں ہیں جو مہنگے مہنگے وکیل کراکے عدالتوں میں جائیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…