جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پندرہ سو روپے کا نوٹ اور پانامہ کیس، بچوں نے وزیراعظم نوازشریف کو پھنسادیا،جیتی ہوئی بازی کیسے پلٹی؟وہ 4بڑی غلطیاں کیا ہیں جن کی وجہ سے گیم الٹ گئی؟کیا واقعی وزیراعظم کا استحصال ہورہاہے؟جاویدچودھری کاتجزیہ‎

datetime 20  جولائی  2017 |

ایک جعلی نوٹ بنانے والے سے غلطی سے پندرہ سو روپے کا نوٹ بن گیا‘ اس نے سوچا میں یہ نوٹ ضائع کرنے کی بجائے اسے کسی جگہ استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہوں اس نے ایک سادہ سا دوکان دارتلاش کیا‘ اس سے سو روپے کا سودا لیا اور اسے پندرہ سو روپے کا نوٹ پکڑا دیا‘ دوکاندار نے وہ جعلی نوٹ دراز میں رکھا اور اسے سات سو سات روپے کے دو نوٹ پکڑادیئے‘ پانامہ کیس میں اب تک یہی ہو رہا ہے‘

حکومت عدالت کو سادہ سمجھ کر ثبوتوں کے انبار لگا دیتی ہے۔۔لیکن عدالت جواب میں انہیں سات سات سو روپے کے نوٹ پکڑاکر حیران کر دیتی ہے‘ کل تک خواجہ حارث نے حکومت کو کیس جتوادیا تھا‘ان کے اس سوال کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا‘ پانامہ میں نواز شریف کا نام نہیں‘ جے آئی ٹی نے نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں دیا‘ان پرکرپشن کا براہ راست کوئی الزام نہیں لگایا گیا لہٰذا آپ انہیں کیسے سزا دے سکتے ہیں لیکن آج کا دن شریف فیملی پر بھاری ثابت ہوا‘ عدالت کیبلری فونٹ سے بھی مطمئن نہیں ہوئی‘ مہریں بھی جعلی نکل آئیں‘ نوٹری پبلک کی تاریخ بھی چھٹی کا دن نکلی اور نوٹری کے سپیلنگز بھی غلط نکلے چنانچہ سلمان اکرم راجہ بیک فٹ پر چلے گئے‘ عدالت نے صاف کہہ اگر بچے فلیٹس کی ملکیت ثابت نہ کر سکے تو ذمہ داری وزیراعظم پر شفٹ ہو جائے گی‘ یہ عدالت کی طرف سے آج کی تاریخ تک واضح اورسیدھا پیغام ہے‘ آج جعلی کاغذات جمع کرانے والوں کو سات سال قید کا اشارہ بھی دے دیا گیا لہٰذا آج کا دن حکومت پر بہت بھاری تھا‘ کل کا دن بھی بہت اہم ہے‘ کل وزیراعظم کے بچوں کے وکیل اپنے دلائل مکمل کریں گے اوراس کے بعد عدالت یہ فیصلہ کرے گی یہ کیس ٹرائل کیلئے نیب بھجوایا جائے‘ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ خودکرے یا پھر عدالت وزیراعظم کو فیصلے تک عہدے سے ہٹا کر کیس ٹرائل کیلئے نیب بھجوا دے‘ امکانات کیا ہیں‘اس کا فیصلہ کل تک ہوگا‘

یہ ایک طرف کی صورتحال ہے جبکہ دوسری طرف آج بھی وزیراعظم اور عمران خان کے درمیان گولہ باری جاری رہی،کوئی نہیں مانے گا‘ کیا یہ دھمکی ہے یا بے چارگی ہے اور کیا واقعی وزیراعظم کا استحصال ہو رہا ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…