جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’اب استعفیٰ دینا ہو گا‘‘ اہم اور انتہائی طاقتور حلقے کی جانب سے ایسا مطالبہ جس نے وزیراعظم نواز شریف کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

datetime 19  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان بار کونسل کی کال پر ملک بھر کے وکلا کا عدالتی بائیکاٹ، وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان بار کونسل کی جانب سے جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد دی جانیوالی کال پر ملک بھر کے وکلا نے عدالتوں کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل وکلانیشنل ایکشن کمیٹی کی جانب سے وزیراعظم

کے استعفے اور تحریک کا اعلان کیا گیا تھا جس پر پاکستان بار کونسل نے اظہار لاتعلقی کیا تھا تاہم 5مئی 2017کو ایک قرار داد منظور کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر جے آئی ٹی رپورٹ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف آئی تو وزیراعظم کے خلاف تحریک چلائے جائے اور ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ پاکستان بار کونسل نے اپنی 5مئی 2017کی قرارداد کی روشنی میں اب ملک بھر کے وکلا کو عدالتوں کے بائیکاٹ کی کال دیتے ہوئے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نےاحسن بھون پنجاب بار کونسل کے عہدیداران جن میں وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل ملک عنایت بھی شامل تھے کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ وزیراعظم اور ان کے خاندان کی کرپشن کے خلاف چارج شیٹ ہے افسوسناک بات ہے پورا خاندان کرپشن میں ملوث ہے ، جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد ہم وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے علاوہ اسحاق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نےاحسن بھون پنجاب بار کونسل کے عہدیداران جن میں وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل ملک عنایت بھی شامل تھے کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ وزیراعظم اور ان کے خاندان کی کرپشن کے خلاف چارج شیٹ ہے افسوسناک بات ہے پورا خاندان کرپشن میں ملوث ہے ، جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد ہم وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے علاوہ اسحاق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کرتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…