ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی صف بندیاں کھل کرسامنے آنے لگیں،تاریخ میں پہلی باریورپ کے قریب روس اورچین کی اہم اسلامی ملک کے ساتھ جنگی مشقیں شروع

datetime 18  جولائی  2017 |

بیجنگ(این این آئی)پہلی مرتبہ روس اور چین یورپی ممالک کے بالکل قریب بحیرہ بالٹک میں مشترکہ جنگی مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ دوسری جانب چین نے قطر بحران کے پس منظر میں خلیج فارس میں ایران کے ساتھ مشترکہ جنگی بحری مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق بحیرہ بالٹک کی جنگی بحری مشقوں میں حصہ لینے کے لیے چین کے کئی جنگی بحری جہاز روانہ ہو چکے ہیں، جو اس ہفتے کے اختتام پر ’بالٹیئسک‘ نامی بندرگاہ تک پہنچ جائیں گے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ذرائع کے مطابق ہالینڈ کی بحریہ نے بھی چینی بیڑیکی خطے میں موجودگی کی اطلاع دی ہے۔ چینی بیڑے میں ایک جنگی، ایک طیارہ بردار اور ایک رسد پہنچانے والا جہاز شامل ہیں۔ یہ ان دونوں ممالک کے بحری دستوں کی پہلی مشترکہ جنگی مشقیں ہوں گی۔ چین ایشیا سے باہر اپنی فوجی موجودگی کو بڑھانے میں لگا ہوا ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں ہی چین نے جبوتی میں اپنا پہلا غیر ملکی فوجی اڈہ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔دونوں ملکوں کے مابین جنگی مشقیں 24 جولائی کو شروع ہوں گی اور 27 جولائی کے روز اپنے اختتام کو پہنچیں گی۔دوسری جانب قطر بحران کے تناظر میں ایران اور چین نے مشترکہ طور پر خلیج فارس میں جنگی بحری مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق ان مشقوں میں ایران کا ایک اور چین کے دو جنگی جہاز حصہ لے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے مشرق میں ہونے والی ان مشقوں میں سات سو ایرانی فوجی شریک ہیں۔بتایا گیا ہے کہ چین کے دونوں جنگی جہاز اس وقت بندر عباس کی بندرگاہ پر موجود ہیں۔2014کے بعد دونوں ملکوں کے مابین یہ پہلی جنگی مشقیں ہیں۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق ان جنگی مشقوں سے خطے کی طاقتوں کے مابین تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی قطر سے ناراضی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے ایران سے تعلقات ہیں۔ آبنائے ہرمز کو تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے دنیا کا ایک اہم راستہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس علاقے میں امریکی جنگی جہاز بھی موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…