جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پاناما کیس کے بعد تحریک انصاف کا شریف فیملی پر سب سے خطرناک وار،حساب کتاب کے ایک اور بڑے معاملے میں پھنساڈالا

datetime 14  جولائی  2017 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف نے وزیر اعظم محمد نواشریف کو خط لکھ کر جے آئی ٹی میں پیشیوں کے وقت پروٹوکول اور ذاتی بیرونی دوروں پر اٹھنے والے اخراجات کی تفصیلات مانگ لیں۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی سینئر رہنما عندلیب عباس نے وزیر اعظم نواز شریف کو خط لکھا ہے۔ خط میں جے آئی ٹی میں پیشیوں کے وقت شریف خاندان کے پروٹوکول اور ذاتی بیرونی دوروں پر اٹھنے والے اخراجات کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔

خط کے مطابق جے آئی ٹی میں پیشی کے وقت وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی کے پروٹوکول پر بالترتیب تین اعشاریہ آٹھ تین ور دو اعشاریہ پانچ چھ ملین روپے کی کثیر رقم خرچ ہوئی۔ شریف خاندان کے تمام افراد جے آئی ٹی میں ذاتی نوعیت کی بنیاد پر پیش ہوئے تھے۔ خط میں پوچھا گیا ہے کہ پی آئی ڈی جو کہ ایک خالصتا قومی اور سرکاری ادارہ ہے اس کو حکومتی وزرا کس بنیاد پر شریف خاندان کے ذاتی دفاع کے لیے استعمال کرتے ہیں؟ وزیر اعظم سے پاناما کیس میں ان کے وکلا کو دی جانے والی فیسوں کی تفصیلات 17 فروری کے خط میں مانگی گئی تھیں جس کا جواب آج تک نہیں دیا گیا۔ وزیر اعظم کی طرف سے جواب نہ آنے کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان کے وکلا کو قومی خزانے سے فیسیں ادا کر کے قومی خزانے پر ناجائز اور غیر قانونی بوجھ ڈالا گیا۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ دو ہزار تیرہ سے آج تک سترہ بار انگلستان جا کر وزیر اعظم نے بیرونی دوروں کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے۔ وزیر اعظم نے تین سال میں اس سے بھی زیادہ بیرونی دورے کیے جتنی بار اوباما نے اپنے پوری مدت میں کیے۔ ان تمام دوروں کے اخراجات کی تفصیلات بتائی جائیں۔ اگر ان اخراجات کا کوئی قانونی ثبوت نہیں ہے تو سپریم کورٹ کو قومی خزانے کی حفاظت کے لیے ازخود نوٹس لینا چاہیے ۔عندلیب عباس کی جانب سے ان تمام سولالات کے جواب 21 یوم کے اندر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…