جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’ریمنڈ ڈیوس کے انکشافات کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری‘‘

datetime 13  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی اپنی رہائی کی کہانی پر مبنی کتاب میں انکشافات، اسلام آباد ہائی کورٹ میں دیت ادائیگی معلومات بارے درخواست دائر۔ تفصیلات کے مطابق امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی اپنی رہائی کی کہانی پر مبنی کتاب میں انکشافات کے بعد اب اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو پاکستانی نوجوان کے خون بہا کی مد میں ادا کی جانے والی

خطیر رقم کی معلومات کی ادائیگی بارے معلومات کیلئے درخواست دائر کر دی گئی۔ درخواست گزار ایڈووکیٹ طارق اسد نے اپنی درخواست میں سابق آرمی چیف جنرل(ر)اشفاق پرویز کیانی، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)کے سابق ڈائریکٹر جنرل(ڈی جی)لیفٹیننٹ جنرل(ر)شجاع پاشا، سابق وزیر داخلہ رحمن ملک اور سیکریٹری دفاع و داخلہ کو فریق نامزد کیا ہے۔ درخواست گزار نے الزام عائد کرتے ہوئے موقف اپنا ہے کہ امریکی جاسوس کو رہائی دلوانے کیلئے خون بہا کی مد میں مقتولین کو ادا کی جانے والی رقم پاکستانی انتظامیہ نے عوامی خزانے سے ادا کی۔درخواست گزار کی جانب سے دعوی کیا گیا کہ وفاقی حکومت اور دیگر فریقین نے مجرم کو بازیاب کرایا اور غیرقانونی طریقے سے مقتولین کے قانونی ورثا کو خون بہا ادا کرکے ریمنڈ ڈیوس کی جان بچائی۔طارق اسد نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کیس کا تمام ریکارڈ طلب کرے اور اس بات کا پتہ لگائیں کہ خون بہا کی ادائیگی سمیت دیگر اخراجات کس نے برداشت کیے، مزید براں اس غیر قانونی عمل کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ متعلقہ اداروں کو رحمن ملک اور دیگر ذمہ داران کے خلاف ایکشن لینے کی ہدایت دیں جو امریکی کنٹریکٹرز کو بغیر کلیئرنس ویزا جاری کرتے ہیں۔واضح رہے کہ

امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں دو نوجوان فیضان حیدر اورفہیم شمشاد نامی دو پاکستانی نوجوانوں کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا جبکہ اس کی مدد کیلئے امریکی سفارتخانے سے آنیوالے افراد نے ایک پاکستانی موٹر سائیکل سوار پاکستانی نوجوان عباد الرحمن کو گاڑی تلے کچل کر ہلاک کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…