اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب پولیس کی وردی کو تبدیل کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس کی وردی کی تبدیلی افسروں کی چپقلش ہے یا پھر سیاسی مداخلت کا نتیجہ، اس کی وجہ کچھ بھی ہو، آئی جی پنجاب کے دفتر میں ہلکے سبز رنگ کی نئی وردی کو چھوڑنے کے لیے اجلاس منعقد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ یکم اپریل 2017ء کو اس وقت کے
آئی جی مشتاق احمد سکھیرا نے پنجاب پولیس کی یونیفارم تبدیل کر دی اور اس کی ابتداء لاہور سے کی گئی، اس کے بعد مرحلہ وار پورے صوبہ پنجاب میں وردی تبدیل ہونا تھی۔ یونیفارم تبدیلی کے اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وردی تبدیل ہونے کے 6 ماہ کے اندر اس میں مزید بہتری کے لیے نظر ثانی بھی ہو سکتی ہے۔ جیسے ہی مشتاق سکھیرا ریٹائر ہوئے ہیں، پنجاب پولیس نے یونیفارم تبدیل کرنے کے بارے میں اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں آئی جی کے دفتر میں کئی اجلاس منعقد ہوئے جن میں نئے یونیفارم کے بارے میں افسروں سے رائے لی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر پولیس افسروں کی رائے ہے کہ موجودہ ہلکے سبز رنگ کی یونیفارم میں ہی تبدیلی کر لی جائے اور اس کو مزید بہتر بنایا جائے، اس کے علاوہ بعض افسران نے اس یونیفارم کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی وجہ سے پولیس کا رعب و دبدبہ جرائم پیشہ افراد پر تقریباً ختم ہو گیا ہے، لہذا پرانی یونیفارم کو ہی دوبارہ استعمال کرنے کی اجازت دے دینی چاہیے۔ایک طرف کچھ پولیس افسران پرانی وردی بحال کرانا چاہتے ہیں تو دوسری طرف حکومتی ارکان کو پنجاب پولیس کی وردی میں خاصی دلچسپی ہے۔ ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ متعدد ایم پی ایز اور ایم این ایز نے وزیر اعلیٰ کو پولیس وردی کو مکمل تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے،
جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی پولیس وردی کی تبدیلی کی منظوری دے دی ہے لیکن اس کے باوجود تاحال آئی جی پنجاب اور پولیس افسر اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکے۔ سنٹرل پولیس آفس کے ذرائع کے مطابق سی سی پی او لاہور امین وینس بھی اس بارے میں لاہور پولیس سے رائے مانگ چکے ہیں کہ یونیفارم کیسا ہے اور کیا اسے تبدیل کیا جانا چاہیے یا نہیں؟ ذرائع نے مزید کہا کہ آنے والے ایک دو ہفتوں میں پولیس یونیفارم سے متعلق فیصلہ کرکے رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو بھیجی جائے گی۔