بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پی ایس پی کے چیئرمین نے وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کر دیا

datetime 11  جولائی  2017 |

کراچی(آن لائن)پی ایس پی کے چیئرمین مصطفٰی کمال نے وزیر اعظم پاکستان میں محمد نواز شریف سے استعفیٰ کے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میاں صاحب مستعفی ہوکر اپنے مقدمات کے سامنا کریں ۔مسلم لیگ اور میاں صاحب جو بھی قانونی طریقہ ہے اس کے ذریعے نواز شریف صاحب اپنا دفاع کریں،لیکن دفاع کرنے سے پہلے ملک کی خاطر جمہوریت کی خاطر سسٹم کی خاطرہم یہ سمجھتے ہیں کہ مزید تاخیر کی گئی اور

وزیر اعظم صاحب مزید وزیراعظم زبردستی عہدے پر رہتے ہوئے اس مقدمے کا سامنا کرتے ہیں تو اس سے ملک کو جمہوریت کو سسٹم کو اور عوام کو نقصان پہنچے گا،کراچی میں پی ایس پی کے مرکزمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب ملک اور آئین کی بالادستی کیلئے وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہوجائیں اور اس کے بعد اپنے مقدمات کا سامنا کریں اور ان کا دفا ع کریں ،مصطفٰی کمال نے کہا کہ میں پاکستان کے عوام کو یاد دلانا چاہتاہوں کہ میں 3مارچ 2016کو وطن واپس آیا،اور آکر میں نے پہلی پریس کانفرنس کی اور آواز بلند کی اور الطاف حسین صاحب کو بے نقاب کیا اور ان کے کارنامے عوام کے سامنے بیان کئے ،اور پاکستانیوں کو بتایا کہ جو کچھ ہورہا ہے یہ شہر کے لوگوں کے لئے اور ملک کے لئے اچھا نہیں ہورہا ،جب ہم نے یہ باتیں کی تو لوگوں میں ہمیں پزیرائی ملی اور لوگوں نے ہماری باتوں کو سننا سمجھنا اور ماننا شروع کردیا،انہوں نے کہا کہ جس وقت ہم یہ باتیں کررہے تھے ہمارے ساتھ کے کولیگ فاروق ستار صاحب ،عامر خان صاحب اور دوسرے لوگ ہماری بات جو کہ بالکل سچ بات تھی جتنی بھی ہم نے سچی باتیں کی ہماری تائید کرنے کے بجائے ہماری

مخالفت شروع کردیں حالانکہ ہم ایم کیو ایم کے اندر انہی باتوں کو قبول کرتے تھے ۔لیکن اس وقت ہم پر الزامات لگانا شروع کئے گئے ،ہم مارچ میں آئے اور 22اگست کو الطاف حسین اور دیگر سب بے نقاب ہوگئے،انہوں نے کہا کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے،اللہ کا کرنا ایسا ہوا ہے کہ 22اگست کو الطاف حسین نے پریس کلب کے سامنے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے ،پاکستان کو گالی دی اور یہ سارے لوگ جوہمیں برا کہتے تھے ہمارے

خلاف باتیں کرتے تھے ان کو الطاف حسین نے اس قابل نہیں چھوڑا کہ ان کے حق میں کچھ بول سکیں اور وہ سب کچھ جانتے ہوئے جو الطاف حسین سے جڑے ہوئے تھے،وہ الطاف حسین کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے اس لئے نہیں کہ وہ سچ جانتے نہیں تھے یا سب کچھ ان کو 22اگست کو معلوم ہوا ہے بلکہ انہوں نے پاکستان کے عوام کے غیض و غضب دیکھ لیا پاکستان کے اداروں کا غیض و غضب دیکھ لیا،اس لئے ان کو معلوم تھا کہ اگر پاکستان کے خلاف اتنا کچھ کہنے کے بعد بھی وہ لوگ الطاف حسین کے ساتھ کھڑے ہوتے تو یہاں نہیں ہوتے جہاں وہ آج کھڑے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…