جمعرات‬‮ ، 05 مارچ‬‮ 2026 

پی ایس پی کے چیئرمین نے وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کر دیا

datetime 11  جولائی  2017 |

کراچی(آن لائن)پی ایس پی کے چیئرمین مصطفٰی کمال نے وزیر اعظم پاکستان میں محمد نواز شریف سے استعفیٰ کے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میاں صاحب مستعفی ہوکر اپنے مقدمات کے سامنا کریں ۔مسلم لیگ اور میاں صاحب جو بھی قانونی طریقہ ہے اس کے ذریعے نواز شریف صاحب اپنا دفاع کریں،لیکن دفاع کرنے سے پہلے ملک کی خاطر جمہوریت کی خاطر سسٹم کی خاطرہم یہ سمجھتے ہیں کہ مزید تاخیر کی گئی اور

وزیر اعظم صاحب مزید وزیراعظم زبردستی عہدے پر رہتے ہوئے اس مقدمے کا سامنا کرتے ہیں تو اس سے ملک کو جمہوریت کو سسٹم کو اور عوام کو نقصان پہنچے گا،کراچی میں پی ایس پی کے مرکزمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب ملک اور آئین کی بالادستی کیلئے وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہوجائیں اور اس کے بعد اپنے مقدمات کا سامنا کریں اور ان کا دفا ع کریں ،مصطفٰی کمال نے کہا کہ میں پاکستان کے عوام کو یاد دلانا چاہتاہوں کہ میں 3مارچ 2016کو وطن واپس آیا،اور آکر میں نے پہلی پریس کانفرنس کی اور آواز بلند کی اور الطاف حسین صاحب کو بے نقاب کیا اور ان کے کارنامے عوام کے سامنے بیان کئے ،اور پاکستانیوں کو بتایا کہ جو کچھ ہورہا ہے یہ شہر کے لوگوں کے لئے اور ملک کے لئے اچھا نہیں ہورہا ،جب ہم نے یہ باتیں کی تو لوگوں میں ہمیں پزیرائی ملی اور لوگوں نے ہماری باتوں کو سننا سمجھنا اور ماننا شروع کردیا،انہوں نے کہا کہ جس وقت ہم یہ باتیں کررہے تھے ہمارے ساتھ کے کولیگ فاروق ستار صاحب ،عامر خان صاحب اور دوسرے لوگ ہماری بات جو کہ بالکل سچ بات تھی جتنی بھی ہم نے سچی باتیں کی ہماری تائید کرنے کے بجائے ہماری

مخالفت شروع کردیں حالانکہ ہم ایم کیو ایم کے اندر انہی باتوں کو قبول کرتے تھے ۔لیکن اس وقت ہم پر الزامات لگانا شروع کئے گئے ،ہم مارچ میں آئے اور 22اگست کو الطاف حسین اور دیگر سب بے نقاب ہوگئے،انہوں نے کہا کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے،اللہ کا کرنا ایسا ہوا ہے کہ 22اگست کو الطاف حسین نے پریس کلب کے سامنے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے ،پاکستان کو گالی دی اور یہ سارے لوگ جوہمیں برا کہتے تھے ہمارے

خلاف باتیں کرتے تھے ان کو الطاف حسین نے اس قابل نہیں چھوڑا کہ ان کے حق میں کچھ بول سکیں اور وہ سب کچھ جانتے ہوئے جو الطاف حسین سے جڑے ہوئے تھے،وہ الطاف حسین کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے اس لئے نہیں کہ وہ سچ جانتے نہیں تھے یا سب کچھ ان کو 22اگست کو معلوم ہوا ہے بلکہ انہوں نے پاکستان کے عوام کے غیض و غضب دیکھ لیا پاکستان کے اداروں کا غیض و غضب دیکھ لیا،اس لئے ان کو معلوم تھا کہ اگر پاکستان کے خلاف اتنا کچھ کہنے کے بعد بھی وہ لوگ الطاف حسین کے ساتھ کھڑے ہوتے تو یہاں نہیں ہوتے جہاں وہ آج کھڑے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…