جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم کا استعفیٰ،تحریک انصاف کے بعد پیپلزپارٹی نے بھی بڑا اعلان کردیا

datetime 10  جولائی  2017 |

اسلام آباد/کراچی (آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی وزیراعظم نوازشریف سے فوری استعفے کا مطالبہ کردیا ۔ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں واضع طور پر کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اپنے آمدنی کے ذرائع اور اثاثہ جات کا جواز دینے میں قطعی طور پر ناکام ہوگئے ہیں،

اور یہ وزیراعظم پر الزام واضع طور پر ثابت ہوگیا ہے اور اب نواز شریف اخلاقی اور سیاسی طور پر وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہنے کا جواز کھو چکے ہیں اس لئے ان پر ضروری ہوگیا ہے کہ وہ استعفیٰ دے دیں۔ پیر کو جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد ردعمل کے طور پر اپنے ایک بیان میں بلاول بھٹو نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پانچ اراکین کے بنچ میں سے دو جج صاحبان پہلے ہی وزیراعظم کو مجرم قرار دے چکے ہیں۔ بقیہ تین جج صاحبان نے ان دو فاضل جج صاحبان کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا تھا لیکن انہوں نے جے آئی ٹی کے ذریعے تحقیقات کرانے کا حکم دیا تھا۔ اب جے آئی ٹی نے یہ تصدیق کر دی ہے کہ وزیراعظم کے آمدنی کے ذرائع اور ان کی جانب سے اکٹھی کی گئی دولت میں بہت بڑا فرق موجود ہے۔ اب نواز شریف کے پاس استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں اور سپریم کورٹ کی جان سے انہیں سزا دینا باقی رہ گیا ہے۔ پی پی پی اس خیال کو بھی مسترد کرتی ہے کہ موجودہ صورتحال سے جمہوری نظام کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔ اب جبکہ نوازشریف پر ان کی ملکیت کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں اور اس بارے کسی کو کوئی شک نہیں رہا لیکن ان ساری باتوں سے نظام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس سارے معاملے سے یہ نشاندہی ہوگئی ہے کہ نظام مضبوط ہے اور نظام میں جمہوری روایات اور اصولوں کے مطابق وزیراعظم کی تبدیلی کے لئے طریقہ کار بھی موجود ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ وقت درست سیاسی فیصلے کا ہے اور وقت کم ہے۔

انہوں نے میاں نواز شریف کو مشورہ دیا کہ وہ فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں تاخیر سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ بحران کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…