جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پی ایس 114 ضمنی انتخاب کا حیرت انگیز نتیجہ سامنے آ گیا، غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج جاری

datetime 9  جولائی  2017 |

کراچی (آئی این پی) صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 114 میں ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سعید غنی نے 23 ہزار 840 ووٹ لے کر میدان مار لیا،ایم کیوایم پاکستان کے کامران ٹیسوری18 ہزار 106 ووٹ لے کر دوسرے نمبر رہے ،مسلم لیگ (ن) کے علی گجر 5 ہزار 353 ووٹ لے کرتیسرے جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوارنجیب ہارون5098 ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر قرار پائے ۔اتوار کو صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس114 میں ضمنی الیکشن کیلئے ووٹ ڈالے گئے

۔ووٹنگ کا وقت ختم ہونے پرووٹوں کی گنتی کا عمل شرو ع ہوا ۔غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار سعید غنی 23 ہزار 840 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ، ایم کیوایم پاکستان کے کامران ٹیسوری18 ہزار 106 ووٹ لے کر دوسرے نمبر رہے ، مسلم لیگ (ن) کے علی گجر 5 ہزار353ووٹ لے کرتیسرے نمبر پر رہے جب کہ پی ٹی آئی کے امیدوار نجیب ہارون5098 ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر قرار پائے ۔ پی ایس 114 کے ضمنی انتخاب میں 27 امیدواروں میں سے 5 جماعتوں کے امیدوار نمایاں تھے جن میں پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، ایم کیو ایم پاکستان، مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی شامل ہیں۔ الیکشن کے سلسلے میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ، امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے 2 ہزار رینجرز اہلکار اور 1500 پولیس کے جوان تعینات کیے گئے جب کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوج کو بھی اسٹینڈ بائی رکھا گیا۔حلقے میں دفعہ 144 نافذ کی گئی اور شناختی کارڈ کے بغیر پولنگ اسٹیشن میں داخل کی اجازت نہیں دی گئی ۔ پولنگ اسٹیشن کے 100 فٹ کے قریب امیدوار یا پارٹی کیمپ لگانے پر بھی پابندی تھی جب کہ کسی بھی شکایت کے لیے صوبائی الیکشن کمشنر آفس میں کمپلین سیل بھی قائم کیا گیا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن میں دھاندلی کرنے پر مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے عرفان اللہ مروت کو نااہل قراردے دیا تھا جس کے باعث پی ایس 114 میں ان کی خالی ہونے والی نشست پر ضمنی الیکشن کرایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…