جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ذاتی مقاصد کیلئے کروڑوں کے اخراجات،شریف فیملی ایک اور مسئلے میں پھنس گئی،حیرت انگیزانکشافات

datetime 7  جولائی  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سابق سینیٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ نواز شریف کھلے عام یہ کہہ چکے ہیں کہ مجھے ذاتی اور خاندانی کاروبار کے حوالے سے اس مقدمے میں گھسیٹا گیا ہے۔ ان کے چھوٹے بھائی نے بھی پانا ما ہیٹ پہن کرکہا کہ اس مقدمے کا کاروبار سلطنت سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اگرچہ یہ درست نہیں لیکن اگر ہم اسے درست تصور کر بھی لیں تو پھر شریف خاندان کی جے آئی ٹی میں پیشیوں پر سرکاری اخراجات کس کھاتے میں ہیں۔

جمعہ کو جاری اپنے ایک ویڈیوپیغام میں انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی جے آئی ٹی میں آمد پر 2کروڑ 18 لاکھ 86ہزار710روپے خرچ ہوئے۔ 2523اہلکاروں کی ڈیوٹی لگائی گئی۔ حسن ، حسین اور اسحق ڈار کی پیشی پر 1350 اہلکار تعینات کیئے گئے اور 1روڑ 35لاکھ41 ہزار روپے خرچ ہوئے۔ مریم نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی پر 2547 اہلکار وں کی ڈیوٹی لگائی گئی۔اس کے علاوہ وفاقی وزرا آئے ، ان کا ٹی اے ڈی اے، گارڈ اور پی اے ساتھ آئے، انکا پروٹوکول، گاڑیاں ، پٹرول اور ان کی منسٹریاں سارا دن بند رہیں، یہ اخراجات بھی کروڑوں کے ہیں اور ان کے علاوہ ہیں۔بابر اعوان نے مزید کہا کہ جن گلووں کو ڈنڈے بانٹے گئے ،جن کو پیسے بانٹے گئے اور ایک ریلی کے نام پر ایک ہنگامہ کرنے کی کوشش کی گئی جو ناکام ہوگئی اس پر کروڑوں الگ خرچ ہوئے۔ اگر یہ مقدمہ ذاتی نوعیت کا ہے تو اس سرکاری خرچ کا جواز کیا بنتا ہے۔ یہ پیسے ٹیکس کے ہیں۔ اور ٹیکس پاکستان کا ہر شہری دیتا ہے۔ بابر اعوان نے یہ بھی کہا کہ کسی قانون میں ایک پرائیویٹ آدمی کو اتنا بڑا پروٹوکول دینے اور اتنا خرچ کرنے کی اجازت نہیں۔میں پاکستان کے احتساب کرنے والے اداروں اور اس میں موجود لوگوں سے کہتا ہوں کہ آج کریں یا کل لیکن پاکستان کے یہ پیسے آپ کو ان سے واپس لے کر خزانے میں جمع کروانے پڑیں گے۔

بابر اعوان نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے درخواست کی کہ وہ حکومت کو اور پوری شریف فیملی کواور اسحق ڈار کونوٹس جاری کریں۔ بابر اعوان نے کہا کہ یہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی کھلی اور بد ترین کرپشن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…