جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’پانامہ کیس میں ایک اور تہلکہ خیز موڑ‘‘قطری شہزادے اور جے آئی ٹی میں تندو تیز پیغامات کا تبادلہ

datetime 7  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیـٹرنگ ڈیسک) قطری شہزادے کا پاکستانی سپریم کورٹ اور پانامہ جے آئی ٹی کا دائرہ اختیار تسلیم کرنے سے انکار ، پاکستانی شہری نہیں اس لئے کسی پاکستانی قانون کا اطلاق مجھ پر نہیں ہوتا، شہزادہ حماد بن جاسم کا ایک اور خط، جے آئی ٹی کوقطر میں واقع گھر آکر بیان ریکارڈ کرنے کی دوبارہ پیشکش، پاکستانی سفارتخانے جانے سے معذرت۔ تفصیلات کے

مطابق قطری شہزادے حماد بن جاسم الثانی نے اپنے ایک اور خط میں پاکستانی سپریم کورٹ اور پانامہ جے آئی ٹی کا دائرہ اختیار تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستانی شہری نہیں اس لئے کسی بھی پاکستانی قانون کا مجھ پر اطلاق نہیں ہوتا۔ انہوں نے ایک بار پھر پاکستانی سفارتخانے میں بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کرتے ہوئے جے آئی ٹی کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں واقع ان کے گھر میں بیان ریکارڈ کرنے کی پیش کش کی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جے آئی ٹی کی جانب سے قطری شہزادے کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ جے آئی ٹی ان کی جانب سے سپریم کورٹ میں حسن اور حسین نواز کی طرف سے جمع کرائے گئے خطوط کی صرف تصدیق نہیں تحقیقات بھی کرنا چاہتی ہے اور سپریم کورٹ میں جمع خطوط میں آپ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو تسلیم کر چکے ۔آپ کا موقف سپریم کورٹ میں جمع خطوط کے مواد کی ساکھ پر اثر انداز ہوگا جب کہ تحقیقات کے بغیر آپ کے خطوط غیر مصدقہ رہیں گے۔آپ کے جوابات موصول ہونے میں تاخیر سے تحقیقات میں مشکلات ہیں، آپ کے تحریری خطوط کئی دن بعد جے آئی ٹی کو موصول ہو رہے ہیں،اپنا مئوقف فیکس یا ای میل کے ذریعے واضح کریں،جواب نہ ملنے پر جے آئی ٹی مزید رابطہ کئے بغیر اپنی رپورٹ جمع کرادے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…