جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کے سب سےبڑے شہروں میں چھٹے نمبر پر پاکستان کا کون سا شہر ہے ؟ حیرت کے شدید جھٹکے کیلئے تیار رہیں

datetime 7  جولائی  2017 |

کراچی (آئی این پی) آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا کہ کراچی دنیا کا چھٹا بڑا شہر ہے‘ 10 لاکھ کیمرے بھی کم ہیں‘ برسوں کا کام ایک سال میں مکمل نہیں ہوسکتا‘ سٹریٹ کرائمز کیلئے علیحدہ عدالتوں کی ضرورت ہے‘ جیل میں نامناسب انتظام کے باعث اہم دہشت گرد فرار ہوئے جو خطرے کی گھنٹی ہے‘ چار سال کے دوران اسٹریٹ کرائمز میں کمی آئی ہے۔

اے ڈی خواجہ نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیک تفتیش نہ ہونے سے ملزمان کو فائدہ ہوتا ہے۔ کراچی کے 108 تھانوں میں ریسپشن روم تیار ہورہے ہیں۔ برسوں کا کام ایک سال میں مکمل نہیں ہوسکتا۔ رواں سال پولیس ہیڈ کوارٹرز کو ٹھیک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چار سال کے دوران اسٹریٹ کرائمز میں کمی آئی ہ ے۔ ملزم بچ جائے تو اس کی سزا پورے معاشرے کو ملتی ہے۔ کراچی سمیت اندرون سندھ میں حالات بہتر کریں گے۔ سی پی ایل سی کے مطابق جرائم میں کمی آئی ہے۔ کراچی دنیا کا چھٹا بڑا شہر ہے۔ پورے کراچی میں صرف 2200 کیمرے لگے ہوئے ہیں جبکہ کراچی میں دس لاکھ کیمرے بھی لگائے جائیں تو کم ہیں۔ انہوں نے کہا اسٹریٹ کرائمز کیلئے علیحدہ عدالتوں کی ضرورت ہے سنٹرل جیل سے فرار قیدی پولیس نے ہی گرفتار کئے تھے۔ کراچی میں اسمارٹ سی ٹی وی نیٹ ورک کی فوری ضرورت ہے۔ جیل کے نامساعد انتظام کے باعث اہم دہشت گرد فرار ہوئے جو خطرے کی گھنٹی ہے۔ جیل سے فرار دہشت گرد کوئی بھی بڑی کارروائی کرسکتے ہیں۔

جیل سے بھاگنے والے قیدیوں کی گرفتاری آسان نہیں ہے۔ فرانزک لیب کیلئے سندھ حکومت کام کررہی ہے۔ فرار ہونے والے ہائی پروفائل ملزمان اتنی آسانی سے ہاتھ نہیں آتے۔ اے ڈی خواجہ نے مزید کہا کہ تفتیشی افسرا کو وقت پر بجٹ ملنا چاہئے۔ سی سی ٹی وی نیٹ ورک کی لائیو کوریج نہ ہونے تک جرائم کم نہیں ہونگے۔ ایکسپوزیو لیب کا قیام اکتوبر میں عمل میں آجائے گا۔ جلد تمام تھانوں کے شعبہ تفتیش کو ایک ایک پولیس موبائل دی جائے گی۔ موٹر سائیکلیں اکثر دفتر اسٹاف اور افسران کے گھروں پر چلی جاتی تھیں پولیس کی موٹر سائیکیں محرروں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…