منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

کراچی سینٹرل جیل میں قیدی بھگانے کا ایکسپرٹ اعلیٰ ترین عہدیدارتعینات ہونے کا انکشاف،وہ کون ہے؟ اور اس سے پہلے کیا کارنامے انجام دیئے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 20  جون‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی) سینٹرل جیل میں قیدیوں کے فرار میں ملوث افسر تعینات ہونے کا انکشاف ہوا ہے، حسن سہتو پر کئی قیدی فرار کرانے اور قتل کے الزامات ہیں۔تفصیلات کے مطابق کراچی سینٹرل جیل کے اہم عہدے پر متعدد بار معطل ہونے والے افسر کی تعیناتی کا انکشاف ہوا ہے، سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل کی پوسٹ گریڈ 19کی ہے، محمد حسن سہتو سنیارٹی لسٹ کا سب سے جونیئر افسر ہے۔

حسن سہتو کو دسمبر2016 میں گریڈ 18 پر ترقی دی گئی اور انہیں 2اہم جیلوں لانڈھی اور سینٹرل کا سپرنٹنڈنٹ لگایا گیا۔حسن سہتو کو جون 2014 میں لانڈھی جیل سے3 قیدی بھگانے پر معطل کیا گیا،2016 میں کراچی سینٹرل جیل سے قیدی فرار ہونے پر حسن سہتو کو پھر معطل کیا گیا، فرار ہونے والا قیدی حسن سہتو کے بنگلے پر 3ماہ تک کام کرتا رہا تھا۔قیدی کے فرار کا مقدمہ نیو ٹاؤن تھانے میں درج ہے، حسن سہتو کے خلاف نیو ٹاؤن تھانے میں قتل کا مقدمہ درج ہے، مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت کے حکم پر درج ہوا۔ذرائع کے مطابق حسن سہتو کو محکمہ جیل کی بااثر شخصیت کا آشیرباد حاصل ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل سینٹرل جیل سے ہائی پروفائل قیدیوں کے فرار ہونے کے معاملے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حیرت انگیز انکشافات پر مبنی رپورٹ تیار کی تھی، ابتدائی تفتیش کے مطابق قیدی جیل حکام کی مل بھگت سے فرار ہوئے۔گزشتہ ہفتے سینٹرل جیل سے کالعدم جماعت کے 2 خطرناک قیدی فرار ہوگئے تھے ، جیل حکام نے غفلت برتنے پر 12 اہلکاروں ، سپرٹنڈنٹ ار جیل سپرٹنڈنٹ کو معطل کردیا تھا۔قیدیوں کی شناخت شیخ محمد ممتاز عرف فرعون اور محمد احمد عرف منا کے ناموں سے ہوئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…