پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

یہ کتے اپنا کتاپن دکھا رہے ہیں

datetime 13  جون‬‮  2017 |

یہ برسوں پرانی بات ہے کہ شاہی دور میں بادشاہ کا ایک بستی کے قریب سے گزر ہو رہا تھا کہ اسے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دیں۔ بادشاہ کو بہت سے کتوں کا ایک ساتھ بھونکنا انتہائی ناگوار گزرا اور اُس نے اپنے وزیر سے اس بابت دریافت کیا۔وزیر بادشاہ کے غصے کو فوراً سمجھ گیا اور اُس نے بادشاہ کی سخاوت کے پیش نظر عرض کی، بادشاہ سلامت! یہ کتے بھونک نہیں بلکہ بھوک کی وجہ سے رو رہے ہیں۔

بادشاہ کی سخاوت اور دریا دلّی کے چرچے دور دور تک پھیلے ہوئے تھے اس لئے کتوں کا بھوکا رہنا وہ اپنی توہین سمجھتا تھا۔ اُس نے افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ پورے شہر میں منادی کرادو کہ تمام لوگ اپنے کتے لے کر دربار آئیں اور انہیں پیٹ بھر کر کھانا کھلائیں۔ وزیر نے بادشاہ کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے پورے شہر میں یہ اعلان کرا دیا کہ لوگ کتے لے کر دربار میں آئیں۔ اگلے روز بادشاہ نے تمام کتوں کے لئے انتہائی اعلیٰ قسم کا کھانا تیار کروایا۔ وقت کی پابندی کے پیش نظر تمام لوگ کتوں کو لا چکے تھے۔ اب کھانا تیار ہو چکا تھا اور کتوں کے لئے رنگ برنگے کھانے دسترخوان پر سجا دئے گئے تھے لیکن جب کتوں کو کھانے پر چھوڑا گیا تو تمام کتے ایک دوسرے کے ساتھ لڑ پڑے۔ کسی کتے کا پاؤں دوسرے کا منہ، کسی کی گردن دوسرا کتا دبوچے ہوئے ہے، کوئی کتّا دوسرے کی دُم کاٹ رہا ہے تو کوئی کان چبا رہا ہے۔کتوں کے ساتھ ساتھ دربار اور دسترخوان بھی خون سے لہو لہو ہو چکے تھے۔ بادشاہ حیران تھا کہ اتنے لذیذ اور عمدہ کھانوں کے ہوتے ہوئے کتّے آپس میں لڑ کر ایک دوسرے کا بدن کیوں نوچ رہے ہیں؟اُس نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے وزیر سے دریافت کیا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ وزیر نے سہمے ہوئے عرض کی، بادشاہ سلامت! یہ کتے ہیں اور اپنا کتاپن دکھا رہے ہیں کیونکہ ایسا کرنا ان کی عادت اور فطرت میں شامل ہے اور یہی کتا پن کی اصل پہچان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…