جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

عظیم مسلمان باکسر محمد علی کے ایک میچ سے کس طرح عظیم اداکار سلویسٹر سٹالون (ریمبو) کی کایا پلٹ گئی؟

datetime 9  جون‬‮  2017 |

کیلی فورنیا( مانیٹرنگ ڈیسک) معروف ہالی ووڈ اداکار سلیوسٹرسٹالون(ریمبو) کی زندگی کی جدو جہد بارے حیران کن تفصیلات منظر عام پر۔ 70 سالہ سلویسٹر سٹالون کو اس وقت فلمی دنیا کا بڑا ستارہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ سلویسٹر سٹالون نے اس مقام تک پہنچنے کیلئے ایک طویل جدوجہد کی ہے۔ سلویسٹر سٹالون کے چہرے کا بایاں نچلا حصہ پیدائشی طور پر مفلوج تھا جس کی وجہ سے انہیں بولنے میں شدید دشواری تھی۔

24 سال کی عمر میں ریمبو نے اپنا اداکاری کا خواب پورا کرنے کیلئے نیو یارک کا رخ کیا لیکن انہیں وہاں بند دروازوں کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ پیسوں کی قلت کی وجہ سے ریمبو کو تین ہفتے تک ایک بس ٹرمینل پر سونا پڑا، پیسوں کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ریمبو نے اپنا پالتو کتا 25 ڈالر میں فروخت کر دیا۔ 200 ڈالر کمانے کیلئے ان ایک نا مناسب فلم میں بھی کام کرنا پڑا، ایک دن دنیا کے عظیم مسلمان باکسر محمد علی کا میچ دیکھتے ہوئے انہیں مشہور زمانہ ہالی ووڈ فلمRockey کی کہانی لکھنے کا خیال آیا۔ انہوں نے مسلسل تین دن بغیر سوئے فلم کے سکرپٹ پر کام کیا، پروڈیوسرز کو ان کا سکرپٹ اتنا پسند آیا کہ اس کیلئے ریمبو کو ساڑھے تین لاکھ ڈالر ز کی آفر کی گئی۔ لیکن انہوں نے آفر ٹھکرا دی۔ ریمبو کو اس فلم میں مرکزی کردار بھی چاہئے تھا۔ آخر کار انہیں ایک پروڈیوسر مل گیا جو انہیں سکرپٹ کے ساتھ مرکزی کردار دینے کو بھی تیار تھا۔ پیسہ حاصل کرنے کے بعد ریمبو نے اپنا پالتو کتا جو 25 ڈالر میں فروخت کیا تھا اسے 15000 ڈالرز میں واپس خرید لیا، فلم روکی کی کامیابی کے بعد سڑکوں پر سونے والا سلویسٹر سٹالون ہالی ووڈ کا بادشاہ بن گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…