منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

ایک بار میں نے روزہ رسولؐ کی جالیوں کو چومنا چاہاتو میرے ساتھ کیاعربی پولیس نے کیا سلوک کیا؟ اس کے بعد کیا ماجرا پیش آیا؟

datetime 9  جون‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) گلوکار ابرار الحق نے کہا ہے کہ کھوٹے سکے مدینے میں چلتے ہیں ، اس کی بڑی مثال میری اپنی ذات ہے ،ایک مرتبہ میں عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب گیا اور جب میں نے مدینہ میں روزہ رسول کی جالیوں کے پاس جا کر انہیں چومنا چاہاتو وہاں موجود شرطوں نے مجھے بازئوں سے زبردستی پیچھے کی جانب سے دھکیل دیا اور

پھر خدا کی ذات نے وہ معجزہ بھی دکھایا جب میں پاکستان واپس پہنچا تو چند روز بعد چوہدری شجاعت ایک ماہ کے لئے وزیراعظم بن گئے اور میں ان کو مبارکباد دینے کے لئے ان کے پاس پہنچا تو وہ عمرے پر جانے کی باتیں کررہے تھے تو میں نے بھی ان سے کہاکہ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا اور پھر میں وزیراعظم کے وفد کے ہمراہ عمرے کی سعادت کے لئے گیا اور مدینہ شریف میں روزہ رسول پر حاضری ہوئی تو ہمارے لئے روزے کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور میں روزہ رسول کے اندر تھا اور وہاں میری کیفیت ایسی تھی کہ میں بیان نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرے لئے ایک معجزہ ہی تھا کہ ایک وقت میں مجھے جالیوں کو ہاتھ نہیں لگانے دیا گیا اور دوسری مرتبہ میں وزیراعظم کے ہمراہ احترام سے روزہ کی زیارت کی اور وہاں پر موجود برتنوں کو بوسہ دیا ۔ انہوںنے کہاکہ یہ میری زندگی کا یادگار لمحہ تھا جس کو میںکبھی بھی فراموش نہیں کرسکتا ۔ واضح رہے کہ ابرار الحق ایک پاکستانی بھنگڑا گلوکار ہیں۔ ان کی پہلے البم “بلو دے گھر” پر اس کا نام صرف “ابرار” درج ہے۔ “بلو دے گھر” اس کا سب سے مشہور گیت ہے۔ گلوکار بننے سے پہلے ابرار لاہور کے ایچی سن کالج میں استاد کی حیثیت سے متعین تھا۔ وہ نسبی طور پر کاہلوں جٹ/جاٹ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…