اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

امتحانات میں پاسنگ مارکس 33فیصد کیوں ہوتے ہیں؟34،32یا کچھ اور کیوں نہیں ہوتے؟جانیئے وہ بات جو ہر کسی کو معلوم نہیں

datetime 8  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سمیت بھارت میں بچوں کے سالانہ بورڈ کے امتحانات میں طالب علموں کے پاس ہونے کے لیے کم از کم 33فیصد نمبر درکار ہوتے ہیں ۔ تاہم کبھی کسی نے سوچا کہ یہ 33فیصد نمبر ہی کیوں ہوتے ہیں ؟34یا 32کیوں نہیں ہوتے ہیں آخراس کی وجہ کیاہے ۔ایک بھارتی چینل کے مطابق امتحانی پرچون میں  ان پاسنگ مارکس نمبروں کا آغا ز کافی پرانا ہے ۔ 1857کی جنگ آزادی کے بعد

ہندوستان میں1858 میں پہلا میٹرک کے امتحان ہوا تو انگریزوں کو اس چیز کی ضرورت محسوس ہوئی کہ طالب علموں کو کتنے نمبر لینے پر پاس کیا جائے ۔ان نمبروں سے کم والوں کو فیل کر دیا ۔ اس مقصد کے لیے انگریز سرکار نے باقاعدہ طور پر خط برطانوی حکومت کو خط لکھا ۔خط کے جواب میں کہا گیا کہ چونکہ برطانیہ میں تو پاسنگ مارکس 65فیصد ہیں ۔چونکہ برصغیر اس کی برابری نہیں کر سکتااور آدھی عقل کے مالک ہوتے ہیں اس لئے اس کے طالب علموں کو پاس ہونے کے لیے ساڑھے بتیس نمبر دیئے جائیں ۔ 1858سے لیکر 1861تک ساڑھے بیتیس فیصد اس کے بعد کیلکولیشن کو آسان بنانے کے لیے 33فیصد کر دی گئی ۔ جو بد قسمتی آج تک چل رہی ہے ۔پریشانی کی بات یہ ہے کہ ایک پرچے میں کل مارکس 100ہوتے ہیں اورسال میں طالب علم نے اس مضمون کوپڑھناہوتاہے اوراس ایک سال کے بعد جب امتحانی پرچہ دیاجاتاہے تواس میں 9سے 7سوالات دیئے جاتے ہیں ،9سوالات کی صورت میں طالب علم کو5سوالات حل کرناہوتے ہیں جبکہ 7سوالات کی صورت میں 4سوال حل کرناہوتے ہیں ،تویہ ایک پریشانی کی بات ہے کہ پھربھی طالب علم کوامتحان میں اس مضمون میں پاس ہونے کےلئے 33مارکس پاس ہونے کےلئے ضرورت ہوتے ہیں جس سے ہمارے تعلیمی نظام کی بڑی خامی سامنے آجاتی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…