جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

جمعہ، ہفتہ اور اتوار کوئی فروٹ نہیں خریدے گا عوام نے مہنگائی کم کرنے کا تاریخی حل نکال لیا

datetime 2  جون‬‮  2017 |

کراچی/لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا گراں فروشوں کے خلاف میدان جنگ بن گیا ، رمضان المبارک کے دوران پھلوں اور دیگر اشیائے خور و نوش بلند نرخوں پر فروخت کیے جانے کے خلاف کراچی سے شروع ہونے والی سوشل میڈیا مہم اب ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کرچکی ہے ، ملک بھر کے عوام نے تین دن تک پھل نہ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے ، شہریوں کا کہنا ہے کہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو وہ خریداری کرنے نہیں نکلیں گے اور بازار خالی ہوں گے ،

ملک بھر میں اعلٰی حکام اور سیاسی رہنماؤں نے اس مہم کا خیر مقدم کیا ہے ، کمشنر اعجاز احمد خان نے اہل کراچی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں اور سول سوسائٹی کا ساتھ دیں۔کمشنر کراچی نے کہا کہ وہ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر ارکان بھی اس مہم میں شریک ہیں، وہ خود بھی سول سوسائٹی کی طرح تین دن تک پھلوں کے بغیر افطار کریں گے ۔ انہوں نے افسران کو بھی ہدایت کی کہ سول سوسائٹی کی مہم کا بھرپور ساتھ دیں ، بائیکاٹ کی مہم شرو ع کرنا سول سوسائٹی کا حق ہے ۔ اس سے منافع خوروں کو سبق سیکھنے کا موقع ملے گا ، انہوں نے بتایا کہ قیمتیں کنٹرول کرنے کے لیے انتظامیہ ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ، مگر پھر بھی منافع خوری میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی ، منافع خوری کے خلاف کریک ڈاؤن میں انتظامیہ نے 500 سے زائد چالان کیے ہیں ، 40 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ساتھ 45 افراد کو جیل بھی بھیجا جاچکا ہے ، کراچی کے کمشنر کی طرف سے حمایت کے اعلان کے بعد لاہور، ملتان،اسلام آباد اور دیگر شہروں میں بھی اعلٰی حکام و شہریوں نے پھلوں کے بائیکاٹ کی مہم کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ، اسسٹنٹ کمشنر عبداللہ خرم نیازی نے مہم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی بائیکاٹ سے قیمتوں پر فرق پڑے گا ،کراچی سے شروع ہونے والی مہم کی لاہور، ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور، خانقاہ شریف اور دیگر مقامات پر بھی پذیرائی کی جا رہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…