جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پاناما لیکس کاڈراپ سین۔لندن کی معروف فیملی نے شریف فیملی کو کہیں کا نہ چھوڑا،پیسہ کب اور کیسے آیا،تہلکہ خیزانکشافات، حکومت لرز اُٹھی

datetime 1  جون‬‮  2017 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ کے حکم پرتشکیل پانے والی جے آئی ٹی نے تحقیقات کاآغازکررکھاہے ،پاناماکیس میں جے آئی ٹی قطری شہزادے سمیت برطانیہ میں مقیم قاضی فیملی کوبھی گواہی کےلئے بلاسکتی ہے لیکن جے آئی ٹی کی طرف سے اس معاملے پربلانے سے قبل ہی قاضی فیملی نے مطالبہ کیاہے کہ جے آئی ٹی ان کے بیانات ریکارڈکرے ۔ایک قومی اخبارکی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مقیم قاضی فیملی نے یہ

مطالبہ سپریم کورٹ کوایک خط لکھ کرکیاہے کہ وہ بھی اپنے بیانات جے آئی ٹی میں ریکارڈکراناچاہتے ہیں۔اخبارکے ذرائع کاکہناہے کہ اگرجے آئی ٹی نے ان کے بیانات ریکارڈکرناہوں گے توان کے خاندان کاکوئی بھی شخص بیان ریکارڈکرانے پاکستان نہیں آئے گاکیونکہ پاکستان میں ان کی جان کوخطرہ ہے اس لئے بیان ویڈیولنک یاسوشل میڈیاکے ذریعے ریکارڈکرائیں گے ۔اس سے قبل مسعود قاضی کے بیٹے کاشف قاضی نے کہاتھاکہ اسحاق ڈارنے میرے والد سے دھوکہ کیا،ہمارے سارے خاندان کے نام سے جعلی اکائونٹس کھلوائے جن میں میرے والد یا فیملی کی مرضی شامل تھی نہ ہمیں علم تھا۔ اسحاق ڈار نے نواز شریف کیلئے منی لانڈرنگ کی اور اسی رقم سے لندن کے علاقہ مے فیئر کے وہ فلیٹس خریدے گئے۔کاشف قاضی نے مزیدکہاکہ اسحاق ڈار کے ساتھ میرے خاندان سے ان دنوں قریبی خاندان مراسم تھے جس کا فائدہ اٹھا کر اسحاق ڈارنے ہمارے خاندان کے تین افراد کے جعلی بینک اکاؤنٹس کھلوائے اور اس وقت 1992 ءمیں یہ راز کھلا جب ہمیں بینک کی طرف سے پانچ ملین پونڈ کی پہلی سٹیٹمنٹ موصول ہوئی اور یہ اکاؤنٹ میری والدہ سکندرہ اور بہونز ہت گوہر کے نام تھا۔ کاشف مسعود قاضی کے بقول تقریباً 440 ملین پونڈ کی رقم میری فیملی کے نام سے ٹرانسفر ہوئی اور مے میئر کے مذکورہ فلیٹس 1993 ءسے شریف فیملی کی ملکیت ہیں۔

کاشف مسعود قاضی نے کہاسپریم کورٹ کو74صفحات پرمشتمل رپورٹ بججھوادی ہے اورمیں اس معاملے میں اسلئے مددکررہاہوں کیونکہ پاکستان سے میں محبت کرتاہوں اورپاکستان میراپیاراوطن ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…