منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

لاڑکانہ میں انتہائی افسوسناک صورتحال،30افرادہلاک،ہسپتالوں میں مریضوں کی آکسیجن بندکردی گئی

datetime 29  مئی‬‮  2017 |

لاڑکانہ(مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی کے گڑھ اورپاکستانی حکمرانوں کے بڑے مرکزلاڑکانہ میں پیرامیڈکل سٹاف کی تین ر وزہ ہڑتال کے باعث چانڈکامیڈیکل کالج ہسپتال اوردیگرمراکزصحت میں آکسیجن کی بندش کے باعث30سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے ہیں ۔۔نجی ٹی وی کے مطابق لاڑکانہ کے چانڈکامیڈیکل کالج ہسپتال کے ایم ایس نے سیشن جج لاڑکانہ کوایک خط لکھاہے جس میں انہوں نے بتایاکہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی

طرف سے جاری کردہ ہدایات پرعمل کرنے کے بجائے پیرامیڈیل سٹاف کی طرف سے آکسیجن سیلنڈرز کی چابیاں ہٹانے اورمیڈیکل سٹور سے دوائیں غائب ہوجانے کی وجہ سے ہسپتال میں زیادہ تر مریضوں جان کی بازی ہارگئے ہیں ۔ایم ایس ڈاکٹرعنایت کندھرونے اپنے خط میں مزید بتایاہے کہ ہسپتال میں کئی مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے اوران کوآکسیجن بروقت نہ مل سکی توان کی حالت مزید تشویش ناک ہوجائے گی اوراموات بڑھنے کاخطرہ ہے ۔ ڈاکٹرعنایت کندھرونے بتایاکہ پیرامیڈیکل سٹاف کی ہڑتال کے دوران اس ہڑتال کے کچھ شرکانے چانڈکامیڈیکل کالج ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور قیمتی مشینوں کو نقصان پہنچایااور بجلی کے کنکشن بھی کاٹ دیئے،جبکہ یہ افراداپنی ڈیوٹی پر مامور افراد سے آکسیجن سلینڈرز اور چابیاں بھی چھین کر لے گئےجس کی وجہ سے 30سے زائد افراد کی موت واقع ہوئی ۔انہوں نے بتایاکہ یہ افراد شاہی خان جنگرانی کے ہمراہ ہسپتال میں داخل ہوئے ان افراد میں ذوالفقار سہیتو، خالد جتوئی، اعجاز چانڈیو، فضل محمد میمن، اللہ نواز منگن، مظہر علی چانڈیو اور قمر الدین شیخ بھی شامل تھے اوران کی وجہ سے یہ اموات ہوئیں ۔ڈاکٹرعنایت کندھرونے بتایاکہ پیرامیڈیکل سٹاف کی ہڑتال کاکوئی جوازنہیں لیکن یہ ہڑتال کرنے کافیصلہ 16مئی کوکیاگیا۔انہوں نے کہاکہ ایسی ہڑتال پہلی مرتبہ ہوئی ہے کیونکہ مطالبات کےلئے پہلے جزوی ہڑتال کی جاتی ہے

لیکن ہڑتالی افراد نے بعض سٹاف کوزبردستی اپنے ساتھ ملایاجس سے یہ صورتحال پیداہوئی ۔ایم ایس نے اس ہڑتال میں شریک افراد کوجاری کئے گئے شوکازنوٹسزکی کاپیاں بھی خط کے ساتھ لف کی ہیں جبکہ ان ہڑتالی افراد کےخلاف کارروائی کےلئےسیشن جج کولکھے گئے خط کی ایک کاپی علاقہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ کوبھی بھیجی ہے ۔ڈاکٹرعنایت کندھرونے اپنے خط میں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کابھی حوالہ دیاجس کے تحت ڈاکٹرزاورپیرامیڈیکل سٹاف ہڑتال نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ مریضوں کی جان بچانااولین فرض ہے ۔واضح رہےکہ 16مئی کوہڑتال کااعلان کیاگیاتھا

اورحکومت سے مطالبہ کیاگیاتھاکہ چانڈکامیڈیکل کالج ہسپتال میں گریڈ20کاایم ایس تعینات کیاجائے تاکہ مختلف امورکی منظوری موقع پرہی مل سکے اورسندھ حکومت پردارومدادکم ہو۔ڈاکٹرعنایت کندھرونے خط میں بھی لکھاہے کہ ہڑتال کی وجہ سے عوام کوشدیدپریشانی کاسامناجبکہ ہزاروں مریضوں کی زندگیوں کوشدیدخطرات لاحق ہیں اس لئے ہڑتال کے خاتمہ کےلئے عدالت اپناکرداراداکرے ۔دوسری طرف پیرامیڈیکل سٹاف نے ایم ایس کے الزامات مستردکردیئے ہیں ۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…