اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

روزے کی حالت میں ’’قے ‘‘ آ جائے تو کیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ عرب عالم دین کا اہم فتویٰ

datetime 14  اکتوبر‬‮  2017 |

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک)رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی اسے سے جڑے کئی سوالات ذہنوں میں گردش کرتے رہتے ہیں تاہم ان سوالات کو جاننا انتہائی ضروری ہوتاہے ۔اس کے لیے مستند عالم دین کی خدمات حاصل کرنا بھی ضروری ہے ۔متحدہ عرب امارات میں مفتی ڈاکٹر علی احمد شمائل کو جو مقام حاصل ہے وہ شاید کسی اور کے حصے میں نہ ہو ۔اکثر سحری زیادہ کھانے یا اپنی طبیت کی بجائے کچھ اور کھایا جائے تو ( قہہ ) آجاتی جس سے روزے پر بڑا اثر پڑتا ہے ۔ طبیت کی خرابی اکثر روزے کو مشکل بنا دیتی ہے ۔

تاہم شریعت اسلامی کے مطابق روزےاور اس کے اصولوں کے بارے میں جاننا ضروری ہے ۔دبئی اسلامک افئیرز اینڈ چیریٹیبل ایکٹیویٹیز ڈپارٹمنٹ کے گرینڈ مفتی ڈاکٹر علی احمد مشائل کے مطابق اگر معدے سے کھانے کے بعد ابکائی آجائے تو اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں ہو تا لیکن اگر اس کھانے کا کچھ حصہ حلق میں سے ہی دوبارہ پیٹ میں چلا جائے تو روزہ دوبارہ رکھنا ضروری ہو جائے گا۔یعنی قہہ کی صورت میں کھائی ہوئی اشیا ءنکل جائیں تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔ مگر خیا ل رہے کہ کھانے کے زرات دوبارہ حلق سے نیچے نہ اتریں ورنہ روزہ دوبارہ ہی رکھنا پڑے گا۔ ایسی حالت میں کچھ مرد و خواتین اپنے اوپر کنٹرول کرتے ہوئے اسے رکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔حالنکہ وہ کھانہ گلے تک آگےا ہوتا ہے ۔لیکن وہ زبردستی اس کھانے کو معدے میں دوبارہ بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ صحیح بات نہیں ۔اس سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…