جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی خفیہ ایجنسی کے 20جاسوس چین نے پکڑ لئے،ان جاسوسوں کے ساتھ کیا، کیاگیا؟ لرزہ خیز انکشافات

datetime 21  مئی‬‮  2017 |

واشنگٹن(آن لائن)امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2010 سے 2012 کے دوران چینی حکومت نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے 20 کے قریب مخبر ہلاک یا قید میں ڈالے۔حکام کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ سی آئی اے کی معلومات ہیک ہوئیں یا پھر کسی خفیہ ایجنٹ کے ذریعے چینی حکام امریکی ایجنٹس کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوئی۔سی آئی اے نے کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک امریکی مخبر کو حکومتی عمارت کے احاطے میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تاکہ دوسروں کو خبردار کیا جاسکے۔خیال رہے کہ ابھی تک نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر سی آئی اے نے کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔اخبار سے بات کرنے والے چار سابق سی آئی اے افسران نے کہا ہے کہ چینی حکومت کے حوالے سے گہری معلومات میں کمی کا آغاز سنہ 2010 میں ہوا تھا جب کہ مخبروں کی گمشدگی کی شروعات سنہ 2011 کے آغاز میں ہوئی تھیں۔ایک ذریعے کے مطابق سی آئی اے اور ایف بی آئی نے ان واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک آپریشن کیا جس کا خفیہ نام ہنی بیڈگر تھا۔اخبار کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا مرکز سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار تھے تاہم ان کی گرفتاری کے لیے شواہد کافی نہیں تھے۔ اب وہ ایک ایشیائی ملک میں رہتے ہیں۔اس رپورٹ پر کام کرنے والے نیو یارک ٹائمز سے منسلک صحافی میٹ اپوزو نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘سب سے مشکل بات یہ ہے ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ کیا ہوا۔وہ کہتے ہیں کہ ‘امریکی حکومت میں اب بھی اس پر رائے منقسم ہے کہ کیا سی آئی اے کے اندر کوئی خفیہ ایجنٹ تھا یا پھر یہ کام کا مسئلہ تھا کہ سی آئی اے کا ایجنٹ مستعد نہیں تھا اور پکڑا گیا یا پھر چینیوں نے مواصلات کو ہیک کیا تھا۔اخبار کے مطابق جاسوسوں کی گمشدگیوں سے امریکہ کے نیٹ ورک کو نقصان ہوا جو اس نے کئی سال لگا کر چین میں بنایا تھا۔

حتیٰ کہ اس سے اوباما انتظامیہ میں بھی یہ سوال اٹھنے لگے کہ انٹیلیجنس میں اتنی آہستگی کیوں ہے۔اپوزو کہتے ہیں کہ سنہ 2013 میں یہ دیکھا گیا کہ چین امریکی ایجنٹس کی شناخت کرنےکی صلاحیت سے محروم ہوگیا اور سی آئی اے نے وہاں اپنا نیٹ ورک دوبارہ بنانے کی کوششیں شروع کیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…