بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی عدالت میں کلبھوشن کے بارے میں موقف پیش کرنے کےلئے پاکستان کے پاس کتناوقت تھا،حکومت نے کہاں دیرکی اورکہاں بڑی غلطیاں کیں ،سینئرسیاستدان نےحقیقت عوام کوبتادی

datetime 18  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان پیپلز پارٹی نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلبھوشن کے کیس میں مس ہینڈلنگ کی گئی ہے، عالمی عدالت میں پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کے معاملے پر عالمی بیانیہ مستحکم انداز میں نہیں پیش کیا گیا ،عالمی عدالت میں ہمارے وکیل نے کمزوراندازمیں مؤقف پیش کیا اور مقررہ 90منٹ کی بجائے صرف50منٹ میں ہی دلائل دئیے،

ہمارے وکیل کوکلبھوشن کی دہشتگردی کی سرگرمیاں بتانی چاہئے تھیں،پاکستان کے مقابلے میں بھارت پوری تیاری کرکے عالمی عدالت گیا، قواعد و ضوابط کے مطابق پاکستان کو ایڈہاک جج کا تقرر کرانا چاہیے تھا،10 مئی تک پاکستان کے پاس ایڈہاک جج کا تقرر کا حق موجود تھا ،حکومت پاکستان بہت کچھ کرسکتی تھی،ہمیں تشویش ہے جو اقدامات ہونا چاہیے تھے وہ نہیں اٹھائے گئے ۔ جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدرسینیٹر شیریں رحمان نے زرداری ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں عالمی عدالت کے فیصلے پرردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر شیریں رحمان نے کہا کہ عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس پر حکومت کی تیاری نہیں تھی، حکومت پاکستان بہت کچھ کرسکتی تھی، کلبھوشن نہ صرف بھارتی جاسوس ہے بلکہ تخریب کاری کرتے ہوئے ہماری سر زمین سے پکڑا گیا جس کے پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد تھے،کلبھوشن آپ کی سرزمین سے پکڑاگیاآپ کے پاس مضبوط پوائنٹ ہے،وکیل کوکلبھوشن کی دہشتگردی کی سرگرمیاں بتانی چاہئے تھیں، کلبھوشن کے کیس میں مس ہینڈلنگ کی گئی ہے،کلبھوشن کے معاملے پر عالمی بیانیہ مستحکم انداز میں کیوں نہیں پیش کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ قواعد و ضوابط کے مطابق پاکستان کو اپنے ایڈہاک جج کا تقرر کرانا چاہیے تھا ، 10 مئی تک پاکستان کے پاس ایڈہاک جج کا تقرر کا حق موجود تھا ،

ہم نے کسی بھی فورم پر کلبھوشن کا نام نہیں لیا،کلبھوشن کامعاملہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اْٹھایاجاناچاہئے تھا، انہوں نے کہا کہ بھارت میں کل بھوشن سے متعلق روز بریفنگ ہورہی ہے،ہمیں تشویش ہے جو اقدامات ہونا چاہیے تھے وہ نہیں اٹھائے گئے ، ہم سے مشاورت کرلیں ہم بتادیں گے کیاکرناہے، ہم نے پوچھابھی تھاکہ کیا کسی کورکھاہے،کہاگیاہاں ہاں بتادیں گے ،ہم منتخب وزیراعظم پر کبھی تہمت نہیں لگاتے، جو منتخب ہوکرآیا وہ توجواب دے۔انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت نے حتمی فیصلہ نہیں دیا لیکن بھارت نے حکم امتناعی تو لے لیا ہے،ہم بھارت کیساتھ امن چاہتے ہیں لیکن پاکستان کے وقارکی قیمت پرنہیں ،انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو حساس معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہتے، ملکی سلامتی پر تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں، فوری طور پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…