جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

اقتصادی راہداری منصوبے میں شریک ممالک کے سا تھ مستقبل میں کیا ہوگا؟بھارت نے بڑا دعویٰ کردیا،دوٹوک اعلان

datetime 14  مئی‬‮  2017 |

نئی دہلی(آئی این پی) بھارت نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں جاری بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت سے گریز کیا اور اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ایسے منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا جس سے اس کی خود مختاری کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔بھارتی حکومت نے بیجنگ میں جاری ایک خطہ ایک سڑک وژن سے متعلق منعقدہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت کے لیے اپنا حکومتی وفد نہیں بھیجا

تاہم اجلاس میں شرکت کئے لیے بھارتی تھنک ٹینک کا ایک وفد بیجنگ میں موجود ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے ‘ایک خطہ ایک سڑک منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے میں شامل ممالک پر قرضوں کا ناقابل برداشت بوجھ آجائے گا۔گوپال باگلے نے کہا ہے کہ بھارت کسی بھی ایسے منصوبے میں شرکت نہیں کرے گا جس میں اسے اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ کرنا پڑے۔ایک بھارتی حکومتی اہلکار نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے حکومتی سطح کا کوئی وفد اس تقریب میں شرکت کے لیے بیجنگ نہیں گیا تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بھارتی تھنک ٹینک کے چند ماہرین فورم کے کچھ اجلاسوں میں شرکت کے لیے بیجنگ روانہ ہوئے ہیں۔بھارت ایک خطہ ایک سڑک منصوبے پر نالاں ہے کیوں کہ اس کا ایک اہم ترین منصوبہ چائنا پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) پاکستان اور کشمیر سے ہوکر گزرتا ہے۔اس سلسلے میں گوپال پاگلے کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک ایسا منصوبہ قبول نہیں کرے گا جو اس کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے بنیادی خدشات کو نظر انداز کرتا ہو۔ان کا کہنا تھا کہ علاقائی ربط سازی کے اقدامات میں مالی ذمہ داری کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا تا کہ ایسے منصوبوں سے بچا جا سکے جن میں قوموں پر بھاری قرض عائد ہو۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارت عالمی ربط سازی پر یقین رکھتا ہے، ایسے منصوبے عالمی سطح پر تسلیم شدہ بین الاقوامی اصولوں، گڈ گورننس، قانون کی حکمرانی، شفافیت اور مساوات کی بنیاد پر بننے چاہئیں۔یار رہے کہ بھارت کی جانب سے ایک خطہ ایک سڑک پر تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی جب چین کے دارالحکومت بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم برائے بین الاقوامی تعاون کے عنوان سے تقریب جاری ہے جس میں پاکستان اور روس سمیت دنیا بھرکے 29 ممالک کے سربراہان اور نمائدگان موجود ہیں۔اس کانفرنس کا مقصد بین الاقوامی تعاون کے ذریعے مشترکہ ترقی کو فروغ دینا ہے،

خیال رہے کہ پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) بھی ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا اہم جزو ہے۔واضح رہے کہ بھارت میں تعینات چینی سفیر لو ژاہوئی نے بھارت کو چین کے ‘ون بیلٹ ون روڈ (ایک خطہ، ایک سڑک) منصوبے میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے نئی دہلی کو اس بات کی یقین دہائی کرائی تھی کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے سے کسی کے خودمختار حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…