بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

فوج اور حکومت کو لڑانے کی کوشش،ٹی وی چینلز اور اینکرزکیخلاف کارروائی کا فیصلہ ،اعلان کردیاگیا

datetime 12  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی )پیمرا نے ٹی وی چینل کو انتباہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ٹی وی چینلز فوج اور قوم کے درمیان اختلافات پیدا کرنے سے باز رہیں۔ترجمان پیمرا کے مطابق پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو اس کے کمپلینٹس اینڈ کال سنٹر ، ٹوئیٹر و فیس بک اکاؤنٹ اور ویب سائٹ کے ذریعے متعدد شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ بعض ٹی وی چینلز، اُنکے کچھ تجزیہ کار اوراینکر زمسلسل یہ پروپگینڈہ کر رہے ہیں کہ پاکستان میں سول و ملٹری تعلقات انتہائی خراب ہیں

نا معلوم ذرائع کے حوالہ سے خبروں اور تجزیوں کو بڑھا چڑھا کے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ غیر ذمہ دارانہ طرزِعمل نہ صرف ملکی مفاد اورقومی سلامتی کے منافی ہے بلکہ ایسی غیر پیشہ وارانہ گفتگو کر کے پاکستان کی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر ایک غیر سنجیدہ اور ناکام ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جہاں پر جیسے آئین اور قانون کی کوئی وقعت نہیں۔دُشمن کا ایجنڈا ہے کہ پاکستان میں قوم اور فوج کے درمیان فاصلے پیدا کیے جائیں تا کہ پاکستان یکسوئی اور اتحاد کے ساتھ آگے نہ بڑھ سکے، ایک ایسے وقت جب دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری ہے اور فوج کے بہادر جوان اور آفیسرز سرحدوں پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور عوام شہروں اور قصبوں میں دہشت گردوں کا شکار ہورہے ہیں، چند مخصوص عناصر کی طرف سے ٹی وی چینلز کو استعمال کرتے ہوئے فوج اور قوم کے درمیان مسلسل اختلافات پیدا کرنے کی مذموم کوشش کرنا قومی مفاد کے خلاف اور ایک انتہائی تشویش ناک امر ہے اور فوج اور قوم کی دی گئی قربانیوں کا اثرزائل کرنے کی گھناؤنی کوشش ہے، جس پر پیمرا اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ اس طرح کے شر انگیز تبصرے و تجزیے نیشنل ایکشن پلان، آپریشن ضربِ عضب ،آپریشن ردالفساد کی روح اور سپریم کورٹ کے نافذ کردہ ضابطۂ اخلاق برائے الیکٹرانک میڈیا2015 کی شقوں 3(1)(b)اور3(1)(j) کے صریحاََخلاف ہے

جس کے تحت عدلیہ یا مسلح افواج کے خلاف بہتان تراشی کرنا منع ہے۔لہٰذا بذریعہ انتباہ تمام نیوز و کرنٹ آفئیرز ٹی وی چینلز کو متنبہ کیا جا تاہے کہ آج کے بعد اُن کا چینل یا چینل کا کوئی ملازم، اہلکار یا پروگرام کا مہمان سول و ملٹری تعلقات کے حوالے سے کوئی غیر مصدقہ خبر یا تبصرہ متعلقہ ادارے کی تصدیق کے بغیر پیش نہ کرے جو آرمڈ فورسز کے خلاف بہتان تراشی کے زمرہ میں آتا ہویا اُن کے امیج کو نقصان پہنچاتا ہو یا کسی بھی قسم کے غیر آئینی اقدامات کیلئے اُکساتا ہو۔ کسی بھی خلاف ورزی کرنے والے چینل کے خلاف پیمرا آرڈیننس 2002کے سیکشن27 کے تحت فوری کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مزید برآں پیمرا احکامات کی تعمیل کیلئے PAKSAT اور ملک کے تمام کیبل آپریٹرز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ پیمرا کے احکامات پرفوری عمل در آمدکو یقینی بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…