بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

طارق فاطمی اور سرتاج عزیز کے تعلقات کشیدہ تھے پانامہ فیصلے کے بعد نواز شریف کواستعفیٰ دینے سے کس نے روکا؟دھماکہ خیز انکشافات

datetime 5  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پانامہ کیس فیصلے کے بعد نواز شریف استعفیٰ دینا چاہتے تھے مگر ن لیگ کے ایک مضبوط دھڑے نہیں انہیں ایسا کرنے سے روک دیا،دو اہم وزیر ملک سے باہر جا چکے،وزارت خارجہ لاوارث ہو چکی، اہم غیر ملکی شخصیات کی ملک میں آمد پر وزارت کا کردار محدود ہو چکا، اپوزیشن جماعتوں کے جلسوں نے وزیراعظم کو پریشان کر رکھا ہے،

سینئر صحافی و تجزیہ کارڈاکٹر شاہد مسعود کا نج ٹی وی پروگرام میں انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پانامہ کیس فیصلے کے بعد نواز شریف استعفیٰ دے کر مڈ ٹرم انتخابات کی جانب جانا چاہتے تھےانہیںن لیگ کے ایک دھڑے نے مشورہ دیا تھا کہ پانامہ فیصلے کے بعد کی مدت جس میں آپ کو نا اہل قرار نہیں دیا گیا آپ استعفیٰ دیکر مڈ ٹرم انتخابات کرادیںاور تصادم کی طرف نہ جائیں جبکہ مسلم لیگ ن کے ایک مضبوط دھڑے نے انہیں ایسا کرنے سے روکا اور استعفیٰ نہیں دینے دئیےاس گروپ کا مؤقف تھا کہ پہلے بھی جے آئی ٹی بھگت چکے ہیں اس کو بھی دیکھ لیں گے آپ استعفیٰ نہ دیں۔ڈاکٹر شاہد مسعودکا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی بھی خواہش ہے کہ نواز حکومت گر جائے۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں پنجاب میں ایک خاموش اتحاد بن چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میری معلومات کے مطابق نواز حکومت کے دو وزیر ملک سے باہر جا چکے ہیں جن میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خارجہ امور میں زیادہ اختیارات طارق فاطمی کے پاس تھے جبکہ سرتاج عزیز اورطارق فاطمی کے درمیان تعلقات کچھ زیادہ اچھے نہیں تھے۔طارق فاطمی کے ہٹائے جانے کے بعد تمام کنٹرول سرتاج عزیز کے پاس آ گیا ہے لیکن ان کے ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے غیر ملکی اہم شخصیات کے دورہ کے موقع پر وزارت خارجہ کا کردار محدود ہو گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…