سلطان محمد فاتح کا شمار تاریخ اسلام کے اولوالعزم مجاہدین اور نامور فاتحین ميں ہوتاہے۔یہ مدبر حکمران ۲۲سال کی عمر میں عثمانیہ کا خلیفہ بنا۔مسند خلافت سنبھالتے ہیں سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ پر حملے کی تیاریا ں شروع کر دیں۔ قسطنطنیہ اس زمانے میں بازنطینیوں کا سب سے مضبوط شہر تھاا ور ناقابل تسخیر علاقہ سمجھا جاتا تھا۔فاتح سے پہلے بھی کئی حکمران قسطنطنیہ فتح کرنے کی کوشش کرچکے تھے
مگر انہیں ناکامی ہوئی۔قسطنطنیہ باسفورس،بحیرہ مرمر اور گولڈن ہارن نامی سمندروں میں گھرا ہوا تھا۔صر ف اس کے مشرقی جانب خشکی تھی۔اس لئے اس پر کامیاب حملے کے لئے ایک طاقتور بحری بیڑہ ناگزیر تھا۔سلطان فاتح نے ایک سو چالیس کشتیوں پر مشتمل ایک بیڑہ تیارکیا۔نیز قسطنطنیہ کی مضبوط دیواروں کو توڑنے کے لئے پیتل کی ایک ایسی توپ تیارکی کہ جس کے برابر اس وقت کوئی توپ روئے زمین پر نہ تھی۔اس توپ کے ذریعے ڈھائی فٹ قطر کا آٹھ من وزنی گولا ایک میل دور تک پھینکا جاسکتا تھا۔ان تیاریوں کے بعد سلطان فاتح نے قسطنطنیہ کے مشرقی خشکی والے حصے کی جانب سے شہر کا محاصرہ کر لیا۔مگر قسطنطنیہ کی جنوبی دیوار اور بندرگاہ کا محاصرہ کرنا بھی ضروری تھا۔قسطنطنیہ کا محل وقوع کچھ ایسا تھاکہ یہاں کی بندرگاہ تک پہنچنے کے لئے گولڈن ہارن نامی سمندر سے گزرنا پڑتا تھا۔لیکن اہل قسطنطنیہ نے اس سمندر کے راستے پر لوہے کی ایک ایسی زنجیر باندھ رکھی تھی کہ کوئی جہاز گولڈن ہارن میں داخل نہ ہو سکتا تھا۔سلطان فاتح کی خواہش وکوشش یہی تھی کہ کسی طرح اس کے کچھ جہاز آبنائے باسفورس نے گولڈن ہارن میں داخل ہو جائیں تاکہ شہر پر بندرگاہ کے راستے سے بھی حملہ کیا جاسکے۔مگر ایسا ممکن نہ تھا۔اہل قسطنطنیہ نے گولڈن ہارن کے دہانے پر آہنی زنجیریں باندھ رکھی تھيں اور ان کی حفاظت و مدافعت کے لئے ان کے بحری جہاز اور توپیں بھی وہاں موجود تھیں۔
سلطان فاتح نے اس صورتحال پر غور وفکر کے بعد ایک ایسا فیصلہ کیا جو دنیا کی عسکری تاریخ کا سب سے منفرد، یادگار اور زندہ وجاوید فیصلہ بن گیا۔تد بیر یہ تھی کہ بحری جہازوں کو دس میل خشکی پر چلا کرگولڈن ہارن تک پہنچایا جائے۔یہ دس میل علاقہ سخت نا ہموار اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل تھا مگر سلطان کی عالی ہمتی دیکھیں کہ اس یہ نے یہ عجوبہ صر ف ایک رات میں کر دکھایا۔اس نے خشکی کے راستے پر لکڑی کے تختے بچھوائے ،انہیں چکنا اور ملائم کرنے کے لئے ان پر چربی ملوائی اور پھر ستر جہازوں کو باسفورس سے یکے بعد دیگرے ان تختوں پر چڑھادیا۔ہر کشتی میں دو ملا ح تھے۔ہوا کی مدد لینے کے لئے بادبان بھی کھول دیئے گئے۔ان جہاز نما کشتیوں کو رات کے اندھیرے میں بیل اور آدمی تختوں پر کھینچتے رہے اور بالآ خر صبح سے پہلے یہ تمام جہاز نما کشتیاں چربی کے تختوں پر سفر کرتے گولڈن ہارن کے بالائی علاقے تک پہنچ گئیں۔دشمن کو خبر ہی نہ ہوئی کہ سلطان فاتح راتوں رات اپنی ستر کشتیاں اور بھاری توپ خانہ لے کر گولڈن ہارن اتر چکا ہے۔پھر سلطان فاتح نے قسطنطنیہ کی بندرگاہ کا محاصرہ کرکے ایک فیصلہ کن جنگ لڑی جس میں بالآخر قسطنطنیہ فتح ہوا۔سلطان فاتح کا خشکی پر جہاز چلانے کا کارنامہ اتنا حیرت انگیز ہے کہ مغربی مؤرخ بھی حیران ہوتے ہیں۔نامور تاریخ نگار ”ایڈورڈ گبن” نے تو اس واقعے کو معجزہ قراردیاہے۔الغرض یہ واقعہ مسلمانوں کی شاندار تاریخ کی جھلک دکھاتا ہے جب کبھی ہم دریاؤں میں گھوڑے دوڑادیتے تھے تو کبھی خشکیوں پر جہاز چلادیتے تھے۔



















































