بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

چوہدری نثارمیں جرات ہے تواس لیگی شخصیت سے یہ کام بندکرائیں ،اعتزازاحسن کاوزیرداخلہ کوبڑاچیلنج

datetime 3  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اورسینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹراعتزاز احسن نے کہا ہے کہ چوہدری نثار کا یہ کہنا درست ہے کہ ٹویٹس زہر قاتل ہیں اور اگر ان میں جرات ہے تو مریم نواز کی ٹویٹس بند کرائیں۔ مریم نواز وزیراعظم نوازشریف کی وراثت کو آگے لے کر جانا چاہتی ہیں اور حمزہ شہباز شریف کا پتہ کاٹا جارہا ہے،وزارت داخلہ کے17گریڈ کے ترجمان نے خورشید شاہ کے خلاف بے ہودہ بیان دیا،

افسر سے بیان جاری کرنے کی بجائے وزیر خود بیان جاری کریں، خورشید شاہ کے خلاف بیان جاری کرنے والے افسر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی ہونی چاہئے۔بدھ کواسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ مریم نواز وزیراعظم نوازشریف کی وراثت کو آگے لے کر جانا چاہتی ہیں اور حمزہ شہباز شریف کا پتہ کاٹا جارہا ہے، وزیراعظم نواز شریف نے استعفی دیا تو مریم نواز کو ان کی جگہ پر لایا جائے گا، پاناما فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز والد کے زیرکفالت نہیں تھیں لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ بے نامی دارنہیں، ہوسکتا ہے جے آئی ٹی اس نتیجے پر پہنچے کہ مریم نواز بے نامی دار ہیں۔ڈان لیکس سے متعلق پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ حکومت نے ظفر عباس اور سرل المیڈا جیسے اچھے صحافیوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ہے، ڈان لیکس معاملے میں مریم نواز کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے لیے طارق فاطمی اور را تحسین کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ چوہدری نثار کا یہ کہنا درست ہے کہ ٹویٹس زہر قاتل ہیں، مریم نواز کا میڈیا سیل وزیراعظم ہاوس میں ہونے والے تمام اجلاسوں کو سنتا اور ریکارڈ کرتا ہے، وہ ایسے اجلاسوں کی ٹویٹس کرتی ہیں جن میں وہ موجود ہی نہیں ہوتیں، گزشتہ سال بھی کشمیر پر بلائی گئی اے پی سی بند کمرے میں تھی لیکن خبریں باہر نکلیں، چوہدری نثار علی خان میں جرات ہے تو مریم نواز کی ٹویٹس بند کرائیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے خلاف وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ وزارت داخلہ کے 17 گریڈ کے ترجمان نے خورشید شاہ کے خلاف بے ہودہ بیان دیا، وزارت داخلہ کے افسر سے بیان جاری کرنے کی بجائے وزیر خود بیان جاری کریں، خورشید شاہ کے خلاف بیان جاری کرنے والے افسر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی ہونی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…