منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

چوہدری نثارمیں جرات ہے تواس لیگی شخصیت سے یہ کام بندکرائیں ،اعتزازاحسن کاوزیرداخلہ کوبڑاچیلنج

datetime 3  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اورسینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹراعتزاز احسن نے کہا ہے کہ چوہدری نثار کا یہ کہنا درست ہے کہ ٹویٹس زہر قاتل ہیں اور اگر ان میں جرات ہے تو مریم نواز کی ٹویٹس بند کرائیں۔ مریم نواز وزیراعظم نوازشریف کی وراثت کو آگے لے کر جانا چاہتی ہیں اور حمزہ شہباز شریف کا پتہ کاٹا جارہا ہے،وزارت داخلہ کے17گریڈ کے ترجمان نے خورشید شاہ کے خلاف بے ہودہ بیان دیا،

افسر سے بیان جاری کرنے کی بجائے وزیر خود بیان جاری کریں، خورشید شاہ کے خلاف بیان جاری کرنے والے افسر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی ہونی چاہئے۔بدھ کواسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ مریم نواز وزیراعظم نوازشریف کی وراثت کو آگے لے کر جانا چاہتی ہیں اور حمزہ شہباز شریف کا پتہ کاٹا جارہا ہے، وزیراعظم نواز شریف نے استعفی دیا تو مریم نواز کو ان کی جگہ پر لایا جائے گا، پاناما فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز والد کے زیرکفالت نہیں تھیں لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ بے نامی دارنہیں، ہوسکتا ہے جے آئی ٹی اس نتیجے پر پہنچے کہ مریم نواز بے نامی دار ہیں۔ڈان لیکس سے متعلق پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ حکومت نے ظفر عباس اور سرل المیڈا جیسے اچھے صحافیوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ہے، ڈان لیکس معاملے میں مریم نواز کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے لیے طارق فاطمی اور را تحسین کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ چوہدری نثار کا یہ کہنا درست ہے کہ ٹویٹس زہر قاتل ہیں، مریم نواز کا میڈیا سیل وزیراعظم ہاوس میں ہونے والے تمام اجلاسوں کو سنتا اور ریکارڈ کرتا ہے، وہ ایسے اجلاسوں کی ٹویٹس کرتی ہیں جن میں وہ موجود ہی نہیں ہوتیں، گزشتہ سال بھی کشمیر پر بلائی گئی اے پی سی بند کمرے میں تھی لیکن خبریں باہر نکلیں، چوہدری نثار علی خان میں جرات ہے تو مریم نواز کی ٹویٹس بند کرائیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے خلاف وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ وزارت داخلہ کے 17 گریڈ کے ترجمان نے خورشید شاہ کے خلاف بے ہودہ بیان دیا، وزارت داخلہ کے افسر سے بیان جاری کرنے کی بجائے وزیر خود بیان جاری کریں، خورشید شاہ کے خلاف بیان جاری کرنے والے افسر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی ہونی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…