بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ڈان لیکس اور پاناما لیکس نے وزیراعظم کی چیخیں نکلوا دیں ، سینئررہنماکے انکشاف نے ن لیگ میں ہلچل مچادی

datetime 3  مئی‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی) پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پنجاب کے حکمرانوں کی کارنر میٹنگز اوراحتجاجی کیمپ سے ہی ٹانگیں کپکپا رہی ہیں ،ماضی میں شیروں پر تکیہ کیا تو وہ کاغذی نشان ہی ثابت ہوا ،آپ اور آپ کے کاغذی شیر میدان میں کھڑے نہیں ہو سکے اور بھاگ گئے،جیالے ناراض ہیں کہ احتجاجی کیمپ کا مقام کیوں تبدیل کیا گیا ،انتظامیہ سے کہوں گا کسی فرد یا جماعت کے ساتھی نہ بنیں

اگر راستے روکنے کی کوشش کی تو پھر وہیں جلسہ اور جلوس ہو گا کیونکہ ہم نے تو احتجاج ہی کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ناصر باغ میں چار مئی کو لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی کیمپ کے انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مرکزی سیکرٹری اطلاعات چوہدری منظور ، نوید چوہدری ، مصطفی نواز کھوکھر سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ جو کہتے تھے پیپلزپارٹی ختم ہو گئی ہے اب وہ بوکھلا ئے ہوئے کیوں ہیں ،ہم نے کارنر میٹنگز کا سلسلہ شروع کیا اور لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی کیمپ لگا رہے ہیں تو مقبول حکمرانوں کی ٹانگیں کانپنا شروع ہو گئی ہیں۔آج ناصر باغ میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی کیمپ میں طاقت کا بھرپو رمظاہرہ ہوگا۔میاں صاحب کو پٹواریوں کی جلسیوں اور سیاسی جماعتوں کے اجتماع کا فرق ناصر باغ میں معلوم ہوجائے گا ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میاں صاحب کون سا شیر اور کہاں کا شیر جب بھی میدان لگا آپ اور آپ کے کاغذی شیر میدان میں کھڑے نہیں ہو سکے اوربھاگ گئے۔انہوں نے کہا کہ پریشانی میاں صاحب کے چہرے سے عیاں ہے ، ڈان لیکس اور پاناما لیکس نے میاں صاحب کی لکیریں اور چیخیں نکلوا دی ہیں، اپوزیشن بھی آپ کی لکیریں اور چیخیں نکلوائے گی ۔انہوں نے کہا کہ مفاہمت کی سیاست سے پاکستان اس مقام پر کھڑا ہے،

قومی اتفاق رائے کے قائل ہیں، پاکستان وفاق ہے اگر قومی اتفاق رائے ہوتو قانون بنتا ہے ،ہم نے این ایف سی سمیت دیگر فیصلے کئے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت سارے ڈیمز بننے چاہئیں اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر اتفاق رائے ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس میں عہدے سے ہٹائے جانے والے پی آئی او نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے ، طارق فاطمی کا وضاحتی خط بھی سامنے آ گیا ہے ۔حکمران کہتے ہیں کہ ٹوئٹ سے نظام نہیں چلتا لیکن حکومت کی طرف سے ساری پالیسیاں ٹوئٹ پر ہی جاری کی جارہی ہیں۔خط سیکرٹریز سے پہلے میڈیا میں کیسے آیا کل اور پرسوں بھی ٹوئٹ ہوا ٹوئٹ کا جواب ٹوئٹ ہی ہو گا۔

چوہدری منظور نے کہا کہ جب سے احتجاجی مہم کا آغاز کیا تو جھوٹی اور جعلی خبروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ،یہ خبریں وہیں سے آ رہی ہیں جہاں سے آتی ہیں ،کوئی کہیں نہیں جا رہا ،گھٹیا حرکتوں کے بجائے میدان میں آئیں،ہم چھوٹی لڑائیوں سے بچ رہے ہیں ۔احتجاج پیپلزپارٹی کا پہلا تجربہ نہیں ،حکمرانوں کو بھی پتہ یہ کتنے پانی میں ہیں ،کارنر میٹنگز جلسے اور جلسے کیا رخ اختیار کریں گے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ ناصر باغ کے احتجاج کے بعد بلاول بھٹو حکومت مخالف احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…