جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایران بھی بھارت جیسی زبان بولنے لگا،پاکستان سے حملے کا دعویٰ،پاکستان میں کس کی پناہ گاہیں ہیں؟سنگین الزام عائد کردیا

datetime 29  اپریل‬‮  2017 |

تہران (آئی این پی)ایرانی پولیس کے نائب سربراہ بریگیڈئر جنرل سکندر مومنی نے دعویٰ کیا ہے کہ سرحد پار سے کیے گئے حملے میں زخمی ہونے والے ایرانی بارڈر گارڈز کو دہشتگرد اغواء کرکے پاکستان لے گئے جبکہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے زمینی افواج کے کمانڈر بریگیڈیر جنرل محمدپاکپور نے کہا ہے کہ حالیہ حملے میں ایرانی بارڈر گارڈز کو پاکستانی سرزمین سے نشانہ بنایا گیا،

آج ڈاکوؤں نے پاکستان میں دوبارہ پناہ گاہیں حاصل کرلی ہیں اور وہاں سے وہ ہماری سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ایرانی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی پولیس کے نائب سربراہ بریگیڈئر جنرل سکندر مومنی کا دعویٰ ہے ہے کہ سرحد پار سے کیے گئے حملے میں زخمی ہونے والے ایرانی بارڈر گارڈز کو دہشتگرد اغواء کرکے پاکستان لے گئے ۔جنرل مومنی کا کہنا ہے کہ ہماری انٹیلی جنس معلومات کے مطابق دہشتگرد زخمی ہونے والے ایرانی گارڈز کو اغواء کرکے پاکستان لے گئے ۔پولیس کو اس سلسلے میں کچھ شواہدملے ہیں ۔ہماری سیکورٹی فورسز لاپتہ فوجیوں کی تلاش اور انھیں وطن واپس لانے کیلئے کوششیں جاری رکھیں گی ۔ادھر بریگیڈیر جنرل محمدپاکپور کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا جب ڈاکو سیستان وبلوچستان کے پہاڑوں پر ایرانی سیکورٹی فورسز پر حملہ کرتے تھے اب ایسی صورتحال نہیں رہی ۔آج ڈاکوؤں نے پاکستان میں دوبارہ پناہیں حاصل کرلی ہیں اور وہاں سے وہ اہماری سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنارہے ہیں جیسا کہ ہمارے بارڈر گارڈز کے ساتھ ہوا۔ڈاکو ہمارے ملک میں پناہ گاہوں کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔انھوں نے کہاکہ عدم تحفظ بہت اچھے طریقے سے ایران کے پڑوس میں موجود ہے ہمارا ملک اس سمندر میں ایک محفوظ جزیرہ ہے ۔آج سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور ان سب کا گاڈ فادر امریکہ ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے انقلاب مخالف گروپوں کی حمایت کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ بدھ کوسیستان و بلوچستان کے جنوب مشرقی ایرانی صوبے کے قصبے مرجیوا میں مسلح افرادکے حملے میں 10 ایرانی سرحدی محافظ ہلاک اور 2زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد پاکستان نے حملے کی شدید مذمت کی تھی جبکہ ایرانی صدر حسن روحانی نے وزیراعظم نوازشریف کے نام خط میں حملے کے قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے بھی پاکستانی سفیر کو طلب کرکے معاملے پر احتجاج بھی کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…