بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پنجابی طالبان کے نام سے8سے زائد دہشت گرد تنظیمیں کام کرہی ہیں،پنجاب میں پشتونوں کی گرفتاریوں پرسینئررہنماپھٹ پڑے

datetime 27  اپریل‬‮  2017 |

کراچی (آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی )کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاناما کیس کے فیصلے پر منافقت کی مٹھائی بانٹی اور کھائی جارہی ہے ۔ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرتے ہیں ۔لاہور میں ایک دھماکہ ہواجس کے بعد پختونوں کے گھروں کی تلاشی لی گئی ۔ہم سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن اپنی بے عزتی نہیں ہونے دیں گے ۔منزل پر پہنچے بغیر دہشت گردوں کے سامنے نہیں جھکیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کراچی میں پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ کسی کو اصولوں کی سیاست سیکھنی ہے تو وہ ہم سے سیکھے ۔کسی پر الزام لگاکر اسے قتل کردینا کسی طور پر بھی درست نہیں ہے ۔مردان یونیورٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل میں انتظامیہ اور پولیس ملوث ہے ۔مشال کے قتل میں اگر ہمارے پارٹی کے کارکنان تو درکنار اگر ہمارے اپنے بچے بھی ملوث پائے گئے تو انہیں پھانسی پر لٹکایا جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکے ۔انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کے فیصلے پر حکومت اور اپوزیشن مٹھائی بانٹ رہی ہے ۔ہمارا موقف واضح ہے کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو مانتے ہیں۔جے آئی ٹی کو نہ ماننا ایک طرح سے عدالتی فیصلے کو نہ ماننا ہے ۔ہم جے آئی ٹی کی رپورٹ کو بھی مانیں گے۔اس وقت پاناما کیس کے فیصلے پر منافقت کی مٹھائی بانٹی اور کھائی جارہی ہے ۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں پختون طلبہ پر تشدد کیا گیا ۔کلاشنکوف کلچر اور سیاست میں تشدد ضیاالحق کی پیداوار ہے ۔عوامی نیشنل پارٹی انتہا پسندی کی طرف معاشرے کو لے جانے والوں کے خلاف سینہ سپر ہے ۔پنجاب یونیورسٹی کے معاملے پر ترقی پسندوں ،قوم پرستوں اور میڈیا کے شکر گذار ہیں کہ انہوں نے حق کا ساتھ دیا ۔

انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کے مسئلے پر سیاست نہیں کررہے یہ قومی مسئلہ ہے۔پختونوں کے شناختی کارڈروک کر انکی شناخت ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں ۔کچھ قوتیں پاکستان کے خلاف ساشیں کررہی ہیں ۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ پنجابی طالبان کے نام سے8سے زائد دہشت گردی کی تنظیمیں کام کرہی ہیں۔ہم پرامن لوگ ہیں۔اگر ہم دہشت گردی کے خلاف نہ لڑتے تو یہاں کوئی نہیں ہوتا ۔پاکستان کے بقا کی جنگ اس لئے نہیں لڑی کہ ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھا جائے ۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو کے پی کے میں شامل کرنے کے وعدے کو پورا کیا جائے ۔بلوچستان کے پختون بیلٹ کو ملاکر ایک حصہ بنائیں گے۔چاہئے کوئی روئے یا ہنسے صوبے کا نام خیبرپختونخواہی رہے گا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب بڑا صوبہ ہے اس کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی ۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ لاہور میں ایک دھماکہ ہواجس کے بعد پختونوں کے گھروں کی تلاشی لی گئی ۔ہم سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن اپنی بے عزتی نہیں ہونے دیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…