بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پاک افغان سرحد پر پاکستان کیا کرنیوالا ہے؟تین سالہ منصوبہ منظر عام پر،حیرت انگیزتفصیلات سامنے آگئیں

datetime 18  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برئے دفاع نے پاکستان ائیر فورس (ترمیمی ) بل2017 کی منظوری دے دی ، کمیٹی کو سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) ضمیر الحسن شاہ نے آگاہ کیا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ہے ، 2600 کلومیٹر میں سے 700 کلومیٹر سرحد پر باڑ لگائی جائے گی اور چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی ، تین سال میں یہ مکمل کیا جائے گا ۔ پیر کو سینیٹ کی

قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس کمیٹی چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید کی صدارت میں ہوا ۔ اجلاس میں پاکستان ائیر فورس ( ترمیمی ) بل 2017 کی کثرت رائے سے منظوری دی گئی ۔ سیکرٹری دفاع نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانے کا عمل ابتدائی مرحلے میں ہے ۔ 2600 کلو میٹر میں سے 700 کلو میٹر پر باڑ لگائی جائے گی جس پر 20 ملین روپے فی کلومیٹر لاگت آئے گی ۔ باڑ کے ساتھ سیکیورٹی چیک پوسٹیں بھی قائم کی جائیں گی ۔یہ تین سال میں مکمل ہو گی ۔ کمیٹی کو دفاعی بجٹ اور اس کے استعمال کے حوالیسے بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس میں سروے آف پاکستان کے 27 ملازمین کا معاملہ بھی زیر غور آیا جن کو ملازمت سے برخاست کیا گیا تھا اور ابھی ان کے کیسز کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ان کو جون کو ہونے والے امتحانات میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے گی تاکہ ان کو یکساں مواقع اور انصاف مل سکے ۔ اجلاس میں لورالائی کنٹوٹمنٹ کے رہائشیوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا ۔ جنہوں نے نقل مکانی کی تھی ۔ معاملہ کے حل کے لئے 2 ہفتوں میں اجلاس بلایا جائے گا ۔ کمیٹی نے خوازہ خیلہ کے رہائشیوں کا معاملہ دوستانہ انداز میں حل کرنے کی ہدایت کی ۔ کمیٹی نے پاکستان آرمی کے صوبیدار سبحان الدین کے بیٹے جو سانحہ آرمی پبلک سکول کے سانحہ میں متاثر ہوئے تھے ان کے جرمنی میں علاج کے لئے 30 ہزار یورو کی منظوری پر وزارت دفاع اوروزیر اعظم ہاؤس کو خراج تحسین پیش کیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…