بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ صفوراسے لے کرمردان یونیورسٹی کے واقعات میں اعلی تعلیم یافتہ ملوث،انتہاپسندی کہاں تک پہنچ چکی ہے ؟جاوید چوہدری کاموجودہ صورتحال پررونگٹھے کھڑے کردینے والادلخراش تجزیہ

datetime 17  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(جاوید چوہدری )مردان یونیورسٹی کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا‘ قوم چار دن کے بعد بھی شاک سے باہر نہیں آئی اور شاید یہ باہر آ بھی نہ سکے ‘ کیوں؟ کیونکہ ہم ابھی تک مسائل کی جڑ نہیں پکڑ رہے‘ ہم دہشت گردی کو بڑا مسئلہ سمجھ رہے ہیں جبکہ ہمارے ملک کا اصل مسئلہ دہشت گردی نہیں‘ انتہا پسندی ہے‘ آپ دہشت گردوں کو گولی مار سکتے ہیں‘ آپ ان کے خلاف ضرب عضب اور ردالفساد جیسےآپریشن کر سکتے ہیں لیکن

آپ انتہا پسندی کےخلاف کوئی آپریشن کر سکتے ہیں اور نہ ہی آپ اسے گولی لاٹھی سے کنٹرول کر سکتے ہیں کیونکہ انتہا پسندی جسم پر نہیں ہوتی یہ مائینڈ میں ہوتی ہے‘ آپ اسے جب تک اندر سے ٹھیک نہیں کرتے‘ یہ ٹھیک نہیں ہو تی اور ہمارے ملک میں انتہا پسندی اب یونیورسٹیز‘ انجینئرنگ یونیورسٹیز اور میڈیکل کالجز تک پہنچ گئی ہے‘ فوج نے 14 اپریل کو لاہور سے نورین نام کی ایک خاتون گرفتار کی‘ یہ میڈیکل کالج کی طالبہ تھی اور اس کے والد یونیورسٹی میں کیمسٹری کے پروفیسر ہیں‘ یہ لڑکی ایسٹر پر لاہور کے ایک چرچ میں خود کش حملہ کرنے والی تھی‘ سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کو انجینئرنگ یوینورسٹی لاہور کے ایک طالب علم نے چار ساتھیوں کے ساتھ اغواء کیا‘ سانحہ صفورا کا ماسٹر مائینڈ سعد عزیز آئی بی اے کا طالب علم تھا‘اس نے ابتدائی تعلیم بیکن ہائوس سے حاصل کی تھی‘ سعد عزیز کے ایک ساتھی نے سرسید انجینئرنگ یونیورسٹی سے ڈگری لی تھی اور تیسرا ساتھی کراچی یونیورسٹی کا طالب علم تھا‘ جنید جمشید پر حملہ کرنے والے نوجوان بھی یونیورسٹیوں کے طالب علم تھے اور اب مردان یونیورسٹی کے انتہائی پڑھے لکھے نوجوانوں نے اپنے ساتھی کو انتہائی سفاکی کے ساتھ قتل کر دیا‘ مشال خان کی لاش کی بےحرمتی کی گئی۔یہ واقعات کیا ثابت کرتے ہیں‘ یہ ثابت کرتے ہیں انتہا پسندی میڈیکل کالجز‘انجینئرنگ یونیورسٹیز اور جنرل یونیورسٹیوں تک پہنچ چکی ہے اور ہم جب تک اسے کنٹرول نہیں کریں گے‘ ہم اس وقت تک دہشت گردی کی یہ جنگ نہیں جیت سکیں گے‘ کیا ہماری حکومتوں کو اس خوفناک صورتحال کا اندازہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…