بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

مردہ مرغیوں کا کاروبار عروج پر،سپلائی کون اور کہاں سے کررہاہے؟افسوسناک انکشافات

datetime 16  اپریل‬‮  2017 |

پشاور( آئی این پی )صوبائی دارلحکو مت پشاور شہر میں ضلعی انتظا میہ کی ملی بھگت سے مر دہ مر غیو ں کے گو شت اور پو ٹے کے خر ید و فرو خت میں خطر نا ک حد تک اضا فہ ہو گیا جس سے کا لے یر قا ن سمیت کئی خطر نا ک قسم کی بیما ریاں پھیلنے کے خد شا ت ظاہر کئے گئے ڈپٹی کمشنر پشاور کے دفتر سے چند منٹ کے فاصلے پر چر گا نو چو ک میں مر دہ مر غیو ں کا گو شت اور پو ٹے کا کا روبا ر ہو رہا ہے

لیکن ضلعی انتظا میہ نے انکھیں بند کی ہو ئی ہے تفصیلا ت کے مطابق صو بائی دارلحکو مت پشاور شہر میں واقع چر گا نو چوک ، شامی روڈ چکن ما رکیٹ ، چارسدہ روڈ چکن ما ر کیٹ ، ہشت نگری چکن ما ر کیٹ ، ہشت نگری پھا ٹک ، رامدا س چکن ما ر کیٹ ، کو ہا ٹی گیٹ ، لا ہو ری گیٹ ، فردو س با زار چکن مارکیٹ ، بشیر آباد چکن ما رکیٹ ، حسن گڑ ھی چکن ما رکیٹ ، دلہ زاک روڈ ، لطیف ااباد چکن ما ر کیٹ اور صدر سر کلر میں نو تھیہ قدیم چکن ما رکیٹ ، نو تھیہ جدید ، صدر با زار، وکہاٹ ، روڈ ، گلبر گ ، یو نیو رسٹی روڈ، بو رڈ با زار ، تا ج آباد ، تھکا ل ، پشتخرہ ، رنگ روڈ ، باڑہ روڈ اور ملحقہ علا قو ں میں چکن کے کا رو با ر سے وابستہ تا جر بر ادری نے ضلعی انتظا میہ کی ملی بھگت سے مر دہ مر غیو ں کا گو شت اور پو ٹے فرو خت کر نے کا کا روبار شروع کر رکھا ہے اور انسا نی زندگیو ں سے کھیل کر انکو یا قا لے یر قا ن جسیے خطر نا ک بیماریو ں میں مبتلا کر رکھا ہے جبکہ پولیس نے بھی ان پر خا مو شی اختیار کی ہو ئی ہے پشاور کے رہا ئیشو ں خان محمد ، ظفر خان ، ابراھیم صیع اللہ اور دیگر شہریو ں کا کہنا تھا کہ کئی بار ڈپٹی کمشنر پشاور اور اسسٹنٹ کمشنر پشاور کے کمپلینٹ سیل میں شکا یا ت کی ہے لیکن انکی جانب سے کو ئی شنو ائی نہیں ملی ۔ جبکہ چر گا نو چوک میں مر غیو ں کے کا روبا ر سے وابستہ دکا ندار حمید اللہ افغا نی نے بتایا کہ

وہ پنجا ب کے ضلعی تلہ گن ، چکو ال ، اٹک اور فیصل آباد کے بڑ ے فا رمو ں سے مر دہ مر غیا ں فی عدد 25روپے پر لیکر یہاں پر 100روپے فی کلو کے حسا ب سے فرو خت کر تے ہیں اور پشاور کے بڑ ے اور مشہور ہو ٹلو ں ، ریسٹو رینٹ اور شوارما فرو شو ں پر فر وخت کر تے ہیں انہوں نے اس با ت کا بھی انکشا ف کیا ہے کہ بعض اوقا ت پولیس والو ں کو بھی مر دہ مر غیو ں کا گو شت کھلا تے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…