ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

کبوتر کے دونوں پائوں سرخ کیوں ہوتے ہیں؟ حضرت نوح ؑ نے کبوتر کیساتھ کیا سلوک کیا تھا؟

datetime 26  جنوری‬‮  2019 |

طوفان نوح گزر جانے کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر پہنچ کر ٹھہر گئی تو حضرت نوح علیہ السلام نے روئے زمین کی خبر لانے کے لئے کبوتر کو بھیجاتو وہ زمین پر نہیں اترا بلکہ ملک سبا سے ایک زیتون کی ایک پتی چونچ میں لے کر آ گیاتو آپ نے فرمایا کہ تم زمین پر نہیں اترے اس لئے پھر جاؤ اور روئے زمین سے خبر لاؤ ۔تو کبوتر دوبارہ روانہ ہوا اور مکہ مکرمہ میں حرم کعبہ کی زمین پر اترااور

دیکھ لیا کہ پانی زمین حرم سے ختم ہو چکا ہے اور سرخ رنگ کی مٹی ظاہر ہو گئی ہے۔کبوتر کے دونوں پاؤں سرخ مٹی سے رنگین ہو گئے۔ اور وہ اسی حالت میں حضرت نوح علیہ السلام کے پاس واپس آ گیا اور عرض کیا کہاے خدا کے پیغمبر !آپ میرے گلے میں ایک خوبصورت طوق عطا فرمائیے اور مجھے زمین حرم میں سکونت کا شرف عطا فرمائیے۔چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے کبوتر کے سر پر دست شفقت پھیرا اوراس کے لئے دعا فرمائی کہ اس کے گلے میں دھاری کا ایک خوبصورت ہار پڑا رہے اور اس کے پاؤں سرخ ہو جائیں اور اس کی نسل میں خیر و برکت رہے اور اس کو زمین حرم میں سکونت کا شرف ملے۔کبوتر کی خاص عادت یہ ہے کہ اگر اس کو ایک ہزار میل کے فاصلے سے بھی چھوڑا جائے تو یہ اُڑ کر اپنے گھر پَہُنچ جاتا ہے نیز دُور دراز ملکوں سے خبریں لاتا اور لے جاتا ہے۔اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اگرکبھی کسی کا پالتو کبوتر اور کسی جگہ پکڑا گیا اورتین تین سال یا اس سے بھی زیادہ مُدَّت تک اپنے گھر سے غائب رہا مگر باوُجُود اس طویل غیر حاضری کے وہ اپنے گھر کو نہیں بھولتا اور اپنی ثباتِ عقل ،قُوَّتِ حافِظہ اور کششِ گھر پر برابر قائم رہتا ہے اور جب کبھی اسے موقع ملتا ہے اُڑ کر اپنے گھر آجاتا ہے۔اگر کسی شخص کے اَعْضاء شل ہوجائیں یا لَقْوہ ، فالج کا اَثر ہو جائے تو ایسے شخص کو کسی ایسی جگہ جہاں کبوتر رہتے ہوں وہاں یا کبوتر کے قریب رہنا مفید ہے ،یہ کبوتر کی عجیب و غریب خاصیّت ہے ،اس کے علاوہ ایسےشخص کے لیے اس کا گوشت بھی فائدہ مند ہے۔
عجائب القرآن صفحہ 318
تفسیر صاوی جلد 3 صفحہ 912

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…