منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کے کتنے ممالک پاکستان سے ہتھیار حاصل کررہے ہیں؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 29  مارچ‬‮  2017 |

واہ کینٹ(آئی این پی )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے پاکستان آرڈننس فیکٹری(پی او ایف ) کا دورہ کیااوراسلحہ و گولہ بارود کے پیداواری عمل کا معائنہ کیا ،کمیٹی نے پی اوایف میں تیار ہونے والی مصنوعات کے اعلیٰ معیارکی تعریف کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وطن عزیز کے اس عظیم دفاعی ادارے کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے بھر پور معاونت کی جائے گی،چیئرمین پی او ایف بورڈ لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات نے

کمیٹی کا آگاہ کیا کہ پی او ایف پاک افواج کی اسلحہ و گولہ بارود کی 100 فیصد ضروریات پوری کرنے کے بعد دنیا کے30 سے زائد ممالک کو اسلحہ و مصنوعات برآمد کر رہاہے، عظیم قومی ادارے کو مستقبل میں خود کفالت اور اسلحہ سازی کے جدید رجحانات سے ہم آہنگ کیا جائیگا، اس سلسلے میں مختلف ممالک سے جوائنٹ وینچر کے ذریعے پلانٹ اور مشینری کی اپ گریڈیشن کی جا رہی ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کے اراکین کے وفد نے چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی خواجہ سہیل منصورکی سربراہی میں پاکستان آرڈننس فیکٹریز(پی اوایف ) کا دورہ کیا۔چیئرمین پی او ایف بورڈ لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات نے اپنے استقبالیہ کلمات میں وفد کو بتایا کہ پی او ایف کا بنیادی مینڈیٹ پاکستان کی مسلح افواج کو اسلحہ و گولہ بارود کی فراہمی ہے اور پی او ایف اپنی مسلح افواج کی اسلحہ و گولہ بارود کی سو فیصد ضروریات پوری کرنے کے بعد اپنی فاضل پیداواری صلاحیت دنیا کے تیس سے زائد ممالک کو برآمد بھی کر رہاہے۔ عثمان علی بھٹی ڈائریکٹر ایکسپورٹ نے اپنی تفصیلی بریفنگ میں کمیٹی کو بتایا کہ پی اوایف چودہ فیکٹریوں پر مشتمل ایک بڑا صنعتی کمپلیکس ہے جس میں 12 ذیلی ادارے اور چوبیس ہزار سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں۔پی اوایف نے ہمیشہ حالت جنگ و امن میں مسلح افواج کی طرف سے دئیے گئے اہداف کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا ہے

۔اس عظیم قومی ادارے کو مستقبل میں خود کفالت اور اسلحہ سازی کے جدید رجحانات سے ہم آہنگ کیا جائے گا اس سلسلے میں مختلف ممالک سے جوائنٹ وینچر کے ذریعے پلانٹ اور مشینری کی اپ گریڈیشن کی جا رہی ہے۔ کمیٹی نے پی او ایف میں حال ہی میں تکمیل شدہ جدید ہتھیاروں کا معائنہ کیا۔ وفد کو پروڈکٹ ڈسپلے لاؤنج اورکچھ پیداواری یونٹس کا بھی دورہ کرایا گیا۔ جہاں انھوں نے اسلحہ و گولہ بارود کے پیداواری عمل کو دیکھا۔اسٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان نے پیداوار ی عمل میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور پی اوایف میں تیار ہونے والی مصنوعات کے اعلیٰ معیارکی تعریف کی اور یقین دلایا کہ وطن عزیز کے اس عظیم دفاعی ادارے کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے بھر پور معاونت کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…