منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

’’پاکستان کا ایک شہر دنیا کا سب سے مہنگا ترین شہر قرار‘‘

datetime 29  مارچ‬‮  2017 |

مظفرآباد( این این آئی) دارلحکومت مظفرآباد دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں شمار ہونے لگا جہاں ٹماٹر 180سے 220روپے کلو ، پیاز 90روپے ،مٹر 80سے100روپے ، پالک40سے 50روپے گڈی جبکہ مرغی کا گوشت 220سے250روپے فی کلو ، جبکہ دیگر اشیاء خوردونو ش میں 125فیصد کا اضافہ ‘ ضلعی انتظامیہ بھی کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آتی ، منافع خوروں نے شہریوں کو لوٹنے کا پلان تیار کرلیا عوام کا شدید احتجاج

مہنگائی کے اس جدید دور میں جو روز مرہ کی اشیاء استعمال ہونے کے کام آتی ہے وہ خرید سے بھی باہر ہے ضلعی انتظامیہ نوٹس لیں منافع خوروں کی دکانیں سیل کریں نہیں تو عوام احتجاج کرے گی تفصیلات کے مطابق دارلحکومت مظفرآباددنیا کے مہنگے ترین شہروں میں پہلے نمبر پر شمار ، جہاں چیک اِن بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے منافع خوروں کے نرغے میں آگیا ہے مانسہرہ سے سبزی /فروٹ ، بڑی تعداد میں تاجر مظفرآباد لاکر فروخت کرتے تھے وہاں بااثر منافع خوروں نے شہر میں پابندی عائد کردی جس کے باعث جو ٹماٹر مانسہرہ میں 50سے60روپے کلو ملتا ہے وہی ٹماٹر مظفرآباد میں 180سے220روپے فی کلو جبکہ مسمی /کنّو150روپے فی درجن ،مانسہرہ میں پیاز 30روپے کلو ، وہی چند گھنٹوں کی مضافت پر مظفرآباد میں90روپے کلو فروخت ہورہا ہے جبکہ اسی طرح کی دیگر غیر روز مرہ میں استعمال ہونے والی اشیاء خوردونوش اور سبزی /فروٹ کی قیمتیں مانسہرہ میں 30سے35%فیصد میں فروخت ہورہی ہیں جبکہ مظفرآباد میں وہی اشیاء 125%فیصد مہنگی ترین سطح پر فروخت کی جارہی ہے

مانسہرہ سے مظفرآباد میں لے جائی جانے والی اشیاء خوردونوش اور سبزی فروٹ کی گاڑیوں کو برارکوٹ چوکی سمیت شہروں کے اندر پولیس پکڑ کر بھاری جرمانہ کرنے میں مصروف ہے جبکہ بااثر منافع خوروں نے انتظامیہ کو بھی اپنے دبائو میں لے رکھا ہے ان کی طرف سے جاری ہونے والی قیمتوں پر شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے جبکہ عوام نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مہنگائی کے اس دور میں دارلحکومت مظفرآباد کے

اندر اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں فوری طور پر عملدرآمد کریں بصورت دیگر شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…