منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی تو اک بہانہ ہے ۔۔راحیل شریف دراصل کس مشن پر ہیں؟ دھماکہ خیز انکشاف

datetime 29  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی فوجی اتحاد کی قیادت پر راحیل شریف کو جی ایچ کیو کا اعتماد حاصل ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر کی ملاقات میں اس حوالے سے اہم بات چیت ہوئی ہے۔ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کر کے عرب ممالک اور ایران کو

یقین دہانی کرائی کہ 39ملکی اتحاد یمن یا ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کا پاکستانی انگریزی اخبار سے اظہار خیال ۔دفاعی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کے حوالے سے معروف صحافی انصار عباسی نے لکھا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ عرب ممالک دراصل پاک عرب تعلقات میں نیا موڑاورکئی غلط فہمیاں دور کرنے میں معاون ثابت ہوا ہے۔ 23مارچ کو دبئی کے برج الخلیفہ پر پاکستان کے جھنڈے کی عکاسی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کے ساتھ کامیاب ملاقاتوں کا ہی نتیجہ ہے۔انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ راحیل شریف کی اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کی سعودی درخواست دراصل ایران کے تحفظات اوراس کو یقین دہانی کے بعد منظور کی گئی جس میں آرمی چیف نے پاکستان میں ایرانی سفیر کو یہ بآور کروایا ہے کہ اسلامی فوجی اتحاد راحیل شریف کی سربراہی میں ایران اور یمن کے حوالے سے سرگرم نہیں ہو گااور نہ ہی پاکستان ایران مخالف کسی اتحاد کا حصہ بنے گا بلکہ اسلامی فوجی اتحاد دراصل دہشتگردی کے خلاف کثیر ملکی اسلامی اتحاد ہے جس کا مقصد داعش کو نشانہ بنانا ہے۔ آرمی چیف نے ایرانی سفیر کیساتھ ملاقات میںکہا ہے کہ چاہ بہار بندرگاہ پر بھارت ایران تعاون پرتحفظات نہیں کیونکہ ایران کیساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات ہیں اور ایران اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے والا ملک ہے۔ آرمی چیف نے اس حوالے سے ایرانی سفیر سے ایران اور سعودی عرب کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستانی خواہشات سے بھی آگاہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…