ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

اتنی دیر لگا دی؟

datetime 21  مارچ‬‮  2017 |

ڈاکٹر تیزی سے ہسپتال میں داخل ہوا ، کپڑے تبدیل کئے اور سیدھا آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھا۔ اسے ایک بچے کے آپریشن کے لیے فوری اور ہنگامی طور پر بلایا گیا تھا۔ہسپتال میں موجود بچے کا باپ ڈاکٹر کو آتا دیکھ کر چلایا ، “اتنی دیر لگا دی؟ تمہیں پتا نہیں میرا بیٹا کتنی سخت اذیت میں ہے ، زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ، تم لوگوں میں کوئی احساس ذمہ داری نہیں ہے ؟مجھے افسوس ہے میں ہسپتال میں نہیں تھا ،

جیسے ہی مجھے کال ملی میں جتنی جلدی آ سکتا تھا آیا ہوں ، ڈاکٹر نے مسکرا کر جواب دیا۔ اب میں چاہوں گا کہ آپ سکون سے بیٹھیں تاکہ میں اپنا کام شروع کر سکوں، میں اور سکون سے بیٹھوں ، اگر اس حالت میں تمہارا بیٹا ہوتا تو کیا تم سکون سے بیٹھتے ؟ اگر تمہارا اپنا بیٹا ابھی مر رہا ہو تو تم کیا کرو گے ؟ باپ غصے سے بولا۔ڈاکٹر نے پھر مسکرا کر کہا ، ہماری مقدس کتاب کہتی ہے کہ ہم مٹی سے بنے ہیں اور ایک دن ہم سب کو مٹی میں مل جانا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے اور غفور رحیم ہے ڈاکٹر کسی کو زندگی نہیں دیتا نہ کسی کی عمر بڑھا سکتا ہے۔ اب آپ آرام سے بیٹھیں اور اپنے بیٹے کے لیے دعا کریں۔ ہم آپ کے بیٹے کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے ۔بس ان لوگوں کی نصیحتیں سنو چاہے تمہیں ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ بچے کا باپ بڑبڑایا۔آپریشن میں کئی گھنٹے لگ گئے لیکن بالآخر جب ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی،تمہارا بیٹا اب خطرے سے باہر ہے ، اگر کوئی سوال ہو تو نرس سے پوچھ لینا۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔کتنا مغرور ہے یہ شخص ، کچھ لمحے کے لیے بھی نہیں رکا کہ میں اپنے بچے کی حالت کے بارے میں ہی کچھ پوچھ لیتا ، بچے کے باپ نے ڈاکٹرکے جانے کے بعد نرس سے کہا۔نرس نے روتے ہوئے جواب دیا ،” اس کا بیٹا کل ایک ٹریفک کے حادثے کا شکار ہو گیا تھا ،

جب ہم نے اسے آپ کے بیٹے کے لیے کال کی تھی تو وہ اس کی تدفین کر رہا تھا اور اب جبکہ اس نے آپ کے بیٹے کی جان بچالی ہے دوبارہ تدفین کو مکمل کرنے گیا ہے۔کبھی کسی پر بیجا تنقید نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ دوسرے کی زندگی کیسی ہے اور وہ کن کن مشکلات میں مبتلا ہے۔تم نہیں جانتے کہ وہ تمہارے کام آنے کے لیے کتنی بڑی قربانی دے رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…